پاکستان نے ایران کے ساتھ دو اہم سرحدی گزرگاہوں، گبد-ریمدان اور تفتان، کے ذریعے تجارتی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ ڈان کی 18 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق وزارت تجارت نے ایک یادداشت کے ذریعے 3 اکتوبر کے اپنے سابقہ حکم کو فوری طور پر واپس لے لیا، جس کے نتیجے میں ان سرکاری راستوں سے درآمد و برآمد رک گئی۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے کہا کہ عارضی بندش کا مقصد سکیورٹی خدشات سے نمٹنا، اسمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام انتظامی معاملات حل کرنے کے لیے رابطے میں ہیں اور پیش رفت کی صورت میں سرحد جلد دوبارہ کھل سکتی ہے۔

کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بھی ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے تاجروں کو مزید احکامات تک نئے درآمدی اور برآمدی آرڈر نہ دینے کا مشورہ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایل پی جی، چاول، تازہ پھل اور دیگر اشیا لے جانے والی سینکڑوں مال بردار گاڑیاں سرحد کے دونوں جانب رکی ہوئی ہیں۔ مسافر آمدورفت کے بارے میں ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ وہ جاری ہے جبکہ تجارتی آپریشنز روکے گئے ہیں۔

گبد-ریمدان راستہ حالیہ عرصے میں پاکستان کی توانائی ضروریات، خصوصاً ایل پی جی کی درآمد، کے لیے اہم بن چکا تھا۔ ڈان کے مطابق اس راستے سے روزانہ چار ہزار ٹن سے زیادہ ایل پی جی آنے کی اطلاعات تھیں، جبکہ پاکستان سے چاول سمیت مختلف مصنوعات کی برآمد بھی بڑھی تھی۔

تاجر اور توانائی شعبے سے وابستہ حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ طویل بندش ایل پی جی کی دستیابی اور قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے، تاہم مستقبل کی قیمت یا قلت کی حتمی سطح کے بارے میں ابھی کوئی سرکاری تخمینہ سامنے نہیں آیا۔ اس لیے موجودہ صورتحال کو عارضی انتظامی و سکیورٹی اقدام کے طور پر دیکھنا چاہیے، جس کی مدت دونوں ملکوں کے حکام کے آئندہ فیصلوں سے واضح ہوگی۔