اسلام آباد: وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ٹیلی کام شعبے کے لیے مجوزہ ’ٹیلی کمیونیکیشن کمپٹیشن رولز 2026‘ میں ایسے آپریٹرز پر قومی رومنگ کی ذمہ داری عائد کرنے کی تجویز دی ہے جنہیں نمایاں مارکیٹ طاقت، یعنی Significant Market Power، کا حامل قرار دیا جائے۔ مجوزہ فریم ورک کا مقصد مسابقت، صارفین کے مفاد اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے مؤثر استعمال کے لیے شعبہ جاتی قواعد واضح کرنا ہے۔

مسودے کے مطابق متعلقہ اتھارٹی کسی ایس ایم پی لائسنس یافتہ کمپنی کو قومی رومنگ رسائی فراہم کرنے کا پابند کر سکتی ہے اگر اسے مؤثر مسابقت، نیٹ ورک توسیع، صارفین کی فلاح یا انفراسٹرکچر کے بہتر استعمال کے لیے ضروری سمجھا جائے۔ ایسی ذمہ داری منصفانہ، معقول، شفاف اور غیر امتیازی شرائط پر عائد کی جائے گی، جبکہ تکنیکی امکان، عملی دائرہ اور مدت طے کرنے کا اختیار بھی اتھارٹی کے پاس رکھنے کی تجویز ہے۔

قواعد میں خلاف ورزی کی صورت میں اتھارٹی کو ہدایات جاری کرنے، اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کرنے، متناسب ریگولیٹری ذمہ داریاں عائد کرنے اور متعلقہ قانون کے تحت کارروائی شروع کرنے کے اختیارات دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ فریم ورک کے تحت پیدا ہونے والے تنازعات کا فیصلہ بھی قانون کے مطابق اتھارٹی کر سکے گی اور فیصلہ کرتے وقت مارکیٹ کی کارکردگی، صارفین کی فلاح، تناسب، تکنیکی امکان اور مسابقتی اثرات جیسے عوامل کو دیکھا جا سکے گا۔

مجوزہ قواعد میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ ٹیلی کمیونیکیشن مارکیٹ کے لیے شعبہ جاتی فریم ورک ہوگا اور مسابقتی کمیشن آف پاکستان کے Competition Act 2010 کے تحت دائرہ اختیار کو ختم نہیں کرے گا۔ یہ نکتہ اس لیے اہم ہے کہ وزارت آئی ٹی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور مسابقتی کمیشن کے درمیان ٹیلی کام مسابقت کے دائرہ اختیار پر ماضی میں قانونی اختلافات رہے ہیں۔

یہ تجاویز ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب پاکستان کا ٹیلی کام شعبہ انضمام، اسپیکٹرم کی تقسیم، بنیادی ڈھانچے تک رسائی اور وسیع تر فائیو جی تیاری جیسے معاملات سے گزر رہا ہے۔ مجوزہ قواعد ابھی مسودے کی سطح پر ہیں؛ اس لیے قومی رومنگ کی کوئی نئی ذمہ داری خودکار طور پر فوری نافذ نہیں ہوئی۔ حتمی قواعد، متعلقہ ریگولیٹری فیصلے اور کسی مخصوص آپریٹر کو ایس ایم پی قرار دینے کے عمل کے بعد ہی عملی اثرات واضح ہوں گے۔