اسلام آباد: پاکستان کے دس بڑے گیس فیلڈز میں مجموعی طور پر 10.605 ٹریلین مکعب فٹ باقی قابل بازیافت گیس ذخائر موجود ہیں، جبکہ ملک کے دس بڑے تیل کے ذخائر میں تقریباً 105 ملین بیرل قابل بازیافت تیل باقی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار ملک کے موجودہ ہائیڈروکاربن ذخائر کی صورتحال اور مقامی توانائی پیداوار کے امکانات کی ایک اہم تصویر پیش کرتے ہیں۔

قابل بازیافت ذخائر سے مراد زیر زمین موجود تمام ہائیڈروکاربن نہیں بلکہ وہ مقدار ہوتی ہے جسے موجودہ تکنیکی، ارضیاتی اور معاشی حالات میں نکالنا ممکن سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے ذخائر کا تخمینہ وقت کے ساتھ نئی دریافتوں، اضافی ڈرلنگ، بہتر ریکوری ٹیکنالوجی، قیمتوں اور فیلڈ کی عملی کارکردگی کے مطابق تبدیل ہو سکتا ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے قدرتی گیس کو بجلی، صنعت، کھاد، گھریلو استعمال اور ٹرانسپورٹ سمیت مختلف شعبوں میں استعمال کرتا آیا ہے۔ مقامی پیداوار میں کمی اور طلب کے دباؤ نے درآمدی ایل این جی اور توانائی کے متبادل ذرائع کی اہمیت بڑھائی ہے۔ ایسے میں بڑے گیس فیلڈز کے باقی ذخائر کا درست انتظام توانائی کی فراہمی، درآمدی بل اور صنعتی پیداوار کے لیے براہ راست اہمیت رکھتا ہے۔

تیل کے شعبے میں بھی مقامی پیداوار ملکی مجموعی ضرورت سے کم ہے اور پاکستان خام تیل و پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر انحصار کرتا ہے۔ دس بڑے آئل فیلڈز میں 105 ملین بیرل باقی قابل بازیافت ذخائر کا تخمینہ مقامی پیداوار کے تسلسل کے لیے اہم ہے، لیکن اسے ملک کی مجموعی طویل مدتی طلب پوری کرنے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔ پیداوار کی رفتار، نئے کنوؤں کی کامیابی اور ذخائر کی قدرتی کمی مستقبل کے نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

حکومت اور توانائی شعبے کے اداروں کے لیے ایک بنیادی ترجیح موجودہ فیلڈز سے مؤثر پیداوار برقرار رکھنے کے ساتھ نئی تلاش اور دریافت کو بڑھانا ہے۔ اس مقصد کے لیے ارضیاتی سروے، ایکسپلوریشن بلاکس، سرمایہ کاری کی شرائط، سکیورٹی اور ریگولیٹری استحکام اہم عوامل ہیں۔

تازہ اعداد و شمار یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ توانائی پالیسی میں صرف موجودہ ذخائر پر انحصار کافی نہیں ہوگا۔ مقامی تیل و گیس کی تلاش، قابل تجدید توانائی، توانائی کی بچت اور درآمدی ذرائع میں تنوع کو متوازی طور پر آگے بڑھانا ہوگا تاکہ رسد کے خطرات اور بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ کم کیا جا سکے۔