اسلام آباد/کراچی: مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ، جولائی اور اگست، میں پاکستان کا اشیائی تجارتی خسارہ سالانہ بنیاد پر 18.11 فیصد بڑھ کر 7.116 ارب ڈالر ہوگیا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ ماہانہ تجارتی خلاصے کے مطابق گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں خسارہ تقریباً 6.025 ارب ڈالر تھا۔ اعداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیرِ جائزہ مدت میں برآمدات بڑھی ہیں، تاہم درآمدات کی رفتار نسبتاً زیادہ رہنے کے باعث مجموعی فرق وسیع ہوا۔
پی بی ایس کے اعداد کے مطابق جولائی اور اگست 2026 میں پاکستان کی درآمدات 12.575 ارب ڈالر رہیں، جو ایک سال پہلے کے 11.125 ارب ڈالر سے 13.03 فیصد زیادہ ہیں۔ اسی عرصے میں برآمدات 5.10 ارب ڈالر سے بڑھ کر 5.46 ارب ڈالر ہوئیں، یعنی سالانہ اضافہ 7.04 فیصد رہا۔ درآمدی بل میں برآمدی آمدن کے مقابلے میں زیادہ تیز اضافے نے دو ماہ کے مجموعی تجارتی خسارے کو بڑھایا۔
ماہانہ موازنہ ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ اگست میں تجارتی خسارہ جولائی کے تقریباً 3.947 ارب ڈالر سے 19.69 فیصد کم ہو کر 3.170 ارب ڈالر رہ گیا۔ اس کمی کی بڑی وجہ دونوں جانب تجارت کا سکڑنا تھا: اگست کی درآمدات جولائی کے 6.898 ارب ڈالر سے 17.69 فیصد کم ہو کر 5.678 ارب ڈالر ہوئیں، جبکہ برآمدات 2.951 ارب ڈالر سے 15.01 فیصد گھٹ کر تقریباً 2.508 ارب ڈالر رہیں۔ اس لیے ماہانہ خسارے میں کمی کو برآمدات میں اضافے کا نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
سالانہ بنیاد پر صرف اگست کا جائزہ لیا جائے تو برآمدات اگست 2025 کے 2.416 ارب ڈالر سے 3.81 فیصد بڑھ کر 2.508 ارب ڈالر ہوئیں۔ اسی دوران درآمدات 5.288 ارب ڈالر سے 7.38 فیصد بڑھ کر 5.678 ارب ڈالر تک پہنچیں۔ نتیجتاً اگست کا تجارتی خسارہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 10.38 فیصد زیادہ رہا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال 2025-26 میں مجموعی تجارتی خسارہ 39.5 ارب ڈالر تھا، جبکہ کارکنوں کی ترسیلاتِ زر 41.5 ارب ڈالر رہیں اور پورا مالی سال 139 ملین ڈالر کے معمولی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر ختم ہوا۔ اخبار نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ رواں مالی سال میں بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا حجم 26 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ یہ پس منظر بڑھتے اشیائی تجارتی فرق کی اہمیت واضح کرتا ہے، تاہم کرنٹ اکاؤنٹ کا حتمی نتیجہ خدمات کی تجارت، ترسیلات، آمدنی اور دیگر بیرونی رقوم کے بہاؤ سے بھی متاثر ہوتا ہے۔
تازہ اعداد پی بی ایس کے ماہانہ خلاصے پر مبنی ہیں اور آئندہ نظرِ ثانی کے تابع ہو سکتے ہیں۔ فی الحال واضح رجحان یہ ہے کہ دو ماہ میں برآمدات کی مثبت سالانہ نمو درآمدات کے زیادہ تیز اضافے کا مقابلہ نہیں کر سکی۔ تجارتی توازن میں پائیدار بہتری کے لیے آنے والے مہینوں میں برآمدی رفتار، درآمدی ساخت اور عالمی اجناس و توانائی کی قیمتیں اہم رہیں گی، جبکہ کسی پالیسی نتیجے کا حتمی تعین مزید ماہانہ اعداد سامنے آنے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔




