کراچی: ڈن اینڈ بریڈ اسٹریٹ پاکستان اور گیلپ پاکستان کے مشترکہ صارف اعتماد سروے میں مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی کے دوران پاکستان کا کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس 24.4 فیصد کم ہو کر 65.3 پر آگیا، جو اداروں کے مطابق دو سال کی کم ترین سطح ہے۔ گزشتہ سہ ماہی میں یہ اشاریہ 86.4 تھا۔ اصل رپورٹ 24 اگست 2026 کو جاری ہوئی، جبکہ پاکستانی کاروباری میڈیا نے 4 ستمبر کو اس کے نتائج دوبارہ نمایاں کیے۔

سروے کی 20ویں اشاعت کے لیے ملک بھر سے 1,592 افراد کی آرا لی گئیں۔ اشاریہ گھریلو مالی صورتِ حال، مجموعی معاشی حالات، بے روزگاری اور بچت سے متعلق صارفین کے موجودہ تجربے اور مستقبل کی توقعات کو جانچتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ حالات سے متعلق ذیلی اشاریہ 51.8 تک گر گیا، جبکہ آئندہ چھ ماہ کی توقعات کا اشاریہ 78.7 رہا۔ دونوں پیمانے گزشتہ سروے کے مقابلے میں کم ہوئے، تاہم مستقبل کی توقعات موجودہ حالات کی نسبت قدرے بہتر رہیں۔

قیمتوں کا دباؤ جواب دہندگان کی سب سے عام تشویش کے طور پر سامنے آیا۔ سروے میں 89.3 فیصد افراد نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ میں ضروری اشیا مہنگی ہوئی ہیں۔ بے روزگاری سے متعلق تاثر بھی منفی رہا اور 81 فیصد جواب دہندگان نے اپنے مشاہدے میں روزگار کی صورتِ حال خراب ہونے کی بات کی۔ قریب 40 فیصد افراد کو خدشہ تھا کہ اگلے چھ ماہ میں ان کے اپنے گھرانے کی مالی حالت مزید کمزور ہو سکتی ہے۔

عمر کے اعتبار سے اعتماد میں سب سے بڑی کمی 50 سال یا اس سے زائد عمر کے جواب دہندگان میں ریکارڈ ہوئی، جہاں اشاریہ 30.4 فیصد گرا۔ 30 سال سے کم عمر افراد میں کمی نسبتاً کم تھی، مگر اس گروپ میں بھی پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں اعتماد واضح طور پر کم ہوا۔ رپورٹ میں مختلف عمر کے گروہوں کے نتائج کو معاشی دباؤ کے یکساں نہ ہونے کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال گیلانی نے 65.3 کی سطح کو شدید مایوسی کی حد قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمزوری صرف مستقبل کے خدشات تک محدود نہیں بلکہ صارفین موجودہ حالات میں بھی مالی دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔ ڈن اینڈ بریڈ اسٹریٹ پاکستان کے چیف بزنس آفیسر زبیر قریشی نے مؤقف اختیار کیا کہ اعتماد کی بحالی کے لیے قیمتوں اور روزگار دونوں محاذوں پر قابلِ مشاہدہ بہتری درکار ہوگی۔ یہ تشریحات سروے جاری کرنے والے اداروں کی آرا ہیں، سرکاری معاشی اعداد یا مستقبل کی یقینی پیش گوئی نہیں۔

صارف اعتماد کا اشاریہ لوگوں کے احساسات اور توقعات ناپتا ہے؛ یہ مہنگائی، بے روزگاری یا آمدنی کا براہِ راست سرکاری پیمانہ نہیں۔ سروے کے نتائج کو پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے قیمتوں اور روزگار کے اعداد، گھریلو اخراجات اور دیگر معاشی اشاریوں کے ساتھ ملا کر دیکھنا ضروری ہے۔ اسی طرح ایک سہ ماہی کی تیز کمی آئندہ سہ ماہی کے نتائج کی ضمانت نہیں دیتی، کیونکہ صارف رویہ قیمتوں، روزگار، شرحِ سود اور سیاسی و معاشی خبروں سے تیزی سے بدل سکتا ہے۔

تازہ رپورٹ کاروباروں اور پالیسی سازوں کے لیے یہ اشارہ فراہم کرتی ہے کہ گھرانوں کی خریداری، بچت اور بڑے اخراجات کے فیصلوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے عملی اثرات کا درست اندازہ آنے والے مہینوں کی خوردہ فروخت، صارف قرض، روزگار اور مہنگائی کے اعداد سے ہوگا۔