اسلام آباد: پاکستان اور ترکیہ نے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور منظم جرائم کے خلاف دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ ڈان کی 10 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ 9 اکتوبر کو استنبول میں پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ان کے ترک ہم منصب مصطفیٰ چفتچی کی ملاقات کے دوران طے پایا۔ دونوں ممالک نے وزارت ہائے داخلہ کے مابین تعاون کو منظم بنانے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

پاکستانی وزارت داخلہ کے میڈیا ونگ سے جاری معلومات کے مطابق معاہدے کا دائرہ صرف دہشت گردی تک محدود نہیں بلکہ منشیات کی غیر قانونی تجارت اور مختلف اقسام کے منظم جرائم سے نمٹنے کے اقدامات بھی اس میں شامل ہیں۔ حکام نے ماہرین کے تبادلے، تکنیکی معاونت اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے باہمی رابطے مضبوط بنانے کی بات کی۔

ملاقات میں سائبر پولیسنگ، انسداد منشیات فورس، نیشنل پولیس اکیڈمی اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان اشتراک کو بھی اہم قرار دیا گیا۔ ان شعبوں میں تعاون کی بات یہ ظاہر کرتی ہے کہ دونوں حکومتیں تفتیشی مہارت، ادارہ جاتی رابطے اور قانون نافذ کرنے والے عملے کی صلاحیت کے پہلوؤں پر کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ تاہم معاہدے کے نفاذ کے تفصیلی شیڈول یا مشترکہ کارروائیوں کے نتائج سے متعلق اس موقع پر کوئی تصدیق شدہ اعدادوشمار نہیں دیے گئے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے ترک ہم منصب کو پاکستان میں غیر قانونی تارکین وطن کے نیٹ ورکس کے خلاف اقدامات سے آگاہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق ترک وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان سے ترکیہ کی جانب غیر قانونی امیگریشن کی شرح 70 فیصد سے کم ہو کر 17 فیصد رہ گئی ہے۔ اس اعدادوشمار کو ترک وزیر کے بیان کی حیثیت سے نقل کیا جا رہا ہے؛ رپورٹ میں اس کی آزادانہ جانچ یا متعلقہ عرصے کی تفصیلی شماریاتی بنیاد پیش نہیں کی گئی۔

دونوں وزرائے داخلہ نے مستقبل میں تعاون برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات میں سکیورٹی رابطہ کاری ایک اہم پہلو ہے، تاہم کسی نئے معاہدے کی عملی قدر کا اندازہ اس کے بعد تشکیل پانے والے ادارہ جاتی طریقہ کار اور باقاعدہ نتائج سے لگایا جا سکے گا۔ موجودہ پیش رفت معاہدے پر دستخط اور مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق کی ہے۔

وزارت داخلہ کے مطابق محسن نقوی سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچے تھے۔ ان کے دورے کے دوران یہ ملاقات ہوئی اور دونوں فریقوں نے مشترکہ دلچسپی کے معاملات پر تعاون بڑھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ فی الحال معاہدے کو مستقبل کی پیش رفت سے الگ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ معاہدے پر دستخط بذاتِ خود کسی مجرمانہ نیٹ ورک کے خاتمے یا کسی مخصوص کارروائی کی کامیابی کی تصدیق نہیں کرتے۔