اسلام آباد: پاکستان اور ترکیہ نے مویشیوں میں پھیلنے والی منہ کھر بیماری (فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز، ایف ایم ڈی) کے کنٹرول، ویکسین کی مقامی تیاری اور جانوروں کی صحت کے معیار بہتر بنانے کے لیے تکنیکی تعاون آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ ڈان کی 5 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ترکیہ سے اس شعبے میں عملی معاونت طلب کی ہے اور ترک ماہرین کا ایک وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ تعاون کے ممکنہ شعبوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں ایف ایم ڈی ویکسین کی مقامی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے ترکیہ کی تکنیکی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تعاون کو صرف بیماری پر قابو پانے تک محدود نہیں رکھا جا رہا بلکہ اسے بیماری سے پاک زون قائم کرنے اور بین الاقوامی گوشت منڈیوں تک پاکستان کی رسائی بہتر بنانے کے وسیع ہدف سے بھی جوڑا گیا ہے۔ جانوروں کی بیماریوں پر مؤثر کنٹرول برآمدی سرٹیفکیشن اور تجارتی اعتماد کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین اور پاکستان میں ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات میں زراعت، لائیو اسٹاک، ویکسین کی تیاری، انسانی وسائل کی ترقی اور ویلیو ایڈڈ غذائی برآمدات میں دوطرفہ تعاون کے عملی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ ترک جانب نے ایف ایم ڈی کے کنٹرول اور ویکسین سازی کے لیے تکنیکی تعاون فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
دونوں فریقوں نے حالیہ ماہر سطح کے تبادلوں کے نتائج پر بھی بات کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ بہتر حیوانی صحت کے معیار اور مقامی ویکسین کی پیداوار پاکستان کے لائیو اسٹاک اور گوشت کی برآمدی صلاحیت میں اضافے میں مدد دے سکتی ہے۔ منصوبے میں متعلقہ وزارتوں، جامعات اور ماہرین کے درمیان ادارہ جاتی روابط اور براہ راست تکنیکی رابطوں کو مضبوط بنانا بھی شامل ہے۔
صلاحیت سازی کے سلسلے میں پاکستان نے ترکیہ کو بتایا کہ مجوزہ 100 افراد کے تربیتی پروگرام کے تحت ابتدائی طور پر تقریباً 30 شرکا کو تربیت کے لیے بھیجنے کا منصوبہ ہے۔ اس تعاون کی کامیابی کا انحصار تکنیکی پروگراموں کے عملی نفاذ، بیماری کی نگرانی، ویکسین کے معیار اور بیماری سے پاک علاقوں کے لیے قابل تصدیق حیوانی صحت کے نظام پر ہوگا۔
