لاہور: پنجاب کے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے صوبے کے 60,015 اسکولوں کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل نظام مزید سخت کر دیا ہے اور اسسٹنٹ ایجوکیشن افسران (اے ای اوز) کو اپنے متعلقہ مرکز کے ہر اسکول کا کم از کم ماہ میں ایک بار معائنہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 5 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق نئی ہدایات میں ضلعی کارکردگی کی درجہ بندی کو بھی ان دوروں سے منسلک کیا گیا ہے جو مربوط مانیٹرنگ ایپ کے ذریعے ریکارڈ ہوں گے۔
نئے فریم ورک میں صرف روایتی سرکاری اسکول نہیں بلکہ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیف)، پنجاب ایجوکیشن انیشی ایٹوز مینجمنٹ اتھارٹی (پیما) کے ادارے اور آؤٹ سورس کیے گئے اسکول بھی شامل ہیں۔ اس طرح مختلف انتظامی ماڈلز کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں کو ایک مشترکہ نگرانی کے ڈھانچے میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ Integrated Unified Monitoring App توسیع شدہ نظام کے لیے 2 نومبر سے فعال کی گئی۔
محکمہ تعلیم کی ہدایات کے مطابق ہر اے ای او کو اپنے مقررہ مرکز کے ہر اسکول کا ہر ماہ کم از کم ایک دورہ کرنا ہوگا، جبکہ ہر کام کے دن کم از کم ایک اسکول کا معائنہ مکمل کرنے کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔ دوروں کا اندراج ڈیجیٹل ایپ میں ہوگا، جس سے ضلعی سطح پر نگرانی، حاضری اور معائنے کی تکمیل کے بارے میں قابلِ تصدیق ریکارڈ دستیاب ہونے کی توقع ہے۔
تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز کے چیف ایگزیکٹو افسران کو ان ہدایات پر سختی سے عمل کرانے کا کہا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عدم تعمیل کی صورت میں متعلقہ افسران کے خلاف جوابدہی کی کارروائی ہو سکتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد اسکولوں کے معائنے کو محض کاغذی کارروائی کے بجائے باقاعدہ اور قابلِ نگرانی عمل بنانا اور مختلف اضلاع کی کارکردگی کے جائزے میں یکساں ڈیجیٹل شواہد استعمال کرنا ہے۔
تاہم اس نظام کی عملی افادیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ڈیجیٹل دوروں کے ریکارڈ کے ساتھ تعلیمی معیار، اساتذہ اور طلبہ کی حاضری، بنیادی سہولیات اور نشاندہی کیے گئے مسائل پر بعد کی کارروائی کس حد تک مؤثر رہتی ہے۔ فی الحال محکمہ نے معائنوں کی تعدد اور ڈیجیٹل ریکارڈنگ کے لیے واضح انتظامی ذمہ داریاں مقرر کر دی ہیں۔
