اسلام آباد: پاکستان اور برطانیہ نے سالانہ انسداد دہشت گردی مکالمے میں دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندوں نے عالمی اور علاقائی سلامتی کی بدلتی صورتحال، دہشت گرد تنظیموں اور سرحد پار سرگرم نیٹ ورکس سے پیدا ہونے والے خطرات کا جائزہ لیا اور باقاعدہ رابطہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ایکسپریس ٹریبیون کی 5 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت افغانستان میں یا وہاں سے سرگرم گروہوں سے متعلق خدشات بھی زیر بحث آئے۔ دونوں فریقوں نے ایک مستحکم اور محفوظ افغانستان کو خطے میں دیرپا امن اور خوشحالی کے لیے اہم قرار دیا۔ یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان مسلسل سرحد پار دہشت گردی اور افغانستان میں موجود عسکریت پسند نیٹ ورکس سے متعلق اپنے تحفظات بین الاقوامی شراکت داروں کے سامنے اٹھاتا رہا ہے۔

دونوں ممالک نے انسداد دہشت گردی کے موجودہ دوطرفہ اور کثیرالجہتی طریقہ کار کا جائزہ لیا اور دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر سے نمٹنے کے مشترکہ عزم کی تجدید کی۔ گفتگو میں بہترین طریقہ کار کے تبادلے اور تعاون کے نئے شعبوں کی تلاش بھی شامل تھی، خصوصاً غلط اور گمراہ کن معلومات کی مہمات، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ممکنہ استحصال اور نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے سامنے آنے والے سکیورٹی چیلنجز پر توجہ دی گئی۔

دفتر خارجہ کے مطابق فریقین نے علاقائی استحکام اور سلامتی کے لیے پاکستان کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ دونوں جانب سے ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے اور انسداد دہشت گردی کے مشترکہ اہداف آگے بڑھانے کے لیے باقاعدہ مصروفیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ دستیاب بیان میں کسی نئے معاہدے، مشترکہ آپریشن یا مخصوص مالی پیکیج کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے مذاکرات کا فوری نتیجہ بنیادی طور پر پالیسی رابطے اور تعاون کے فریم ورک کو مزید مضبوط کرنے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سلامتی تعاون میں دہشت گردی کے مالی ذرائع، شدت پسند نیٹ ورکس، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت اور معلومات کے تبادلے جیسے موضوعات ماضی میں بھی اہم رہے ہیں۔ تازہ مکالمے میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ابھرتی ٹیکنالوجی کو شامل کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسداد دہشت گردی کا دائرہ روایتی سکیورٹی خطرات سے آگے بڑھ کر آن لائن ماحول اور معلوماتی میدان تک پھیل رہا ہے۔