راولپنڈی: لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بنچ نے پاکستان آرڈیننس فیکٹریز (پی او ایف) کی جانب سے دائر 100 سے زائد اپیلیں خارج کر دی ہیں۔ یہ اپیلیں ایک عملدرآمد عدالت کے ان احکامات کے خلاف تھیں جن میں واہ کینٹ میں نئی فیکٹری کے قیام کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے مالکان کو بڑھا ہوا معاوضہ اور متعلقہ سود ادا کرنے کا معاملہ زیر بحث تھا۔

جسٹس طارق محمود باجوہ اور جسٹس احسن رضا پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ایگزیکیوشن فرسٹ اپیل نمبر 05 آف 2025 سمیت اسی اراضی حصول کے تنازع سے منسلک دیگر اپیلوں کو مسترد کیا۔ عدالتی تنازع ضلع اٹک کی تحصیل حسن ابدال کے مواضعات برہان، جلو اور اسلام گڑھ میں مجموعی طور پر 29 ہزار 199 کنال اور 18 مرلہ اراضی کے حصول سے متعلق ہے۔

اراضی کے حصول کا نوٹیفکیشن لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کے تحت یکم جولائی 1990 کو جاری ہوا تھا جبکہ حتمی ایوارڈ 18 اگست 1992 کو دیا گیا۔ حاصل کی گئی زمین میں برہان کے مقام پر 548 کنال اراضی ان مالکان کی تھی جنہوں نے لینڈ ایکوزیشن کلکٹر کی مقرر کردہ معاوضے کی رقم کو چیلنج کیا۔ طویل عدالتی کارروائی کے دوران معاملہ اعلیٰ عدالتوں تک پہنچا۔

دستیاب عدالتی ریکارڈ کے مطابق سپریم کورٹ نے متعلقہ چیلنج 21 دسمبر 2019 کو مسترد کیا تھا، جبکہ بعد میں دائر نظرثانی کی درخواست بھی 18 جولائی 2023 کو خارج کر دی گئی۔ اس پس منظر میں موجودہ اپیلیں بنیادی طور پر عملدرآمد عدالت کے ان احکامات سے متعلق تھیں جن کے تحت پہلے سے طے شدہ قانونی حق کے مطابق اضافی معاوضے اور سود کی ادائیگی پر عمل کرایا جا رہا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں پی او ایف کی جانب سے عملدرآمد عدالت کے احکامات روکنے یا تبدیل کرانے کی موجودہ اپیلی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔ تاہم کسی عدالتی فیصلے کے آئندہ قانونی اثرات کا انحصار تحریری حکم، دستیاب قانونی راستوں اور فریقین کی مزید کارروائی پر ہوگا۔

یہ مقدمہ پاکستان میں سرکاری مقاصد کے لیے اراضی کے حصول کے بعد معاوضے کے تعین اور اس کی بروقت ادائیگی سے متعلق طویل قانونی تنازعات کی ایک مثال ہے۔ تین دہائیوں سے زیادہ پرانے حصول اراضی کے اس معاملے میں مختلف عدالتی مراحل مکمل ہونے کے بعد اب توجہ عملدرآمد اور واجب الادا رقوم کی ادائیگی پر مرکوز ہے۔