اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وفاقی وزیر مواصلات اسد محمود کو پاکستان پوسٹ میں ان کے دورِ وزارت کے دوران ہونے والی ہزاروں تقرریوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں طلب کر لیا ہے۔ ڈان کی 5 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق نیب کے نوٹس میں اسد محمود کو 10 نومبر کو صبح 11 بجے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسد محمود جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے ہیں اور 2022 سے 2023 کے دوران وفاقی وزیر مواصلات رہے۔
رپورٹ کے مطابق نیب پاکستان پوسٹ میں 4,252 تقرریوں سے متعلق معاملات کی چھان بین کر رہا ہے۔ تحقیقاتی ادارے کا الزام ہے کہ اس دور میں منظور شدہ خالی آسامیوں کی تعداد سے زیادہ تقرریاں کی گئیں اور پاکستان پوسٹ میں منظور شدہ پوسٹوں کے اعداد و شمار سے متعلق بھی تضادات سامنے آئے۔ یہ نکات نیب کی تحقیقات اور نوٹس میں بیان کردہ الزامات ہیں؛ انہیں کسی عدالت یا مجاز فورم کی جانب سے حتمی طور پر ثابت شدہ بدعنوانی یا جرم قرار نہیں دیا گیا۔
نیب کی طلبی کا مطلب یہ ہے کہ سابق وزیر سے متعلقہ ریکارڈ، فیصلوں اور تقرری کے عمل کے بارے میں وضاحت حاصل کی جائے گی۔ تحقیقات کے اس مرحلے پر یہ واضح نہیں کہ معاملہ ریفرنس، باقاعدہ الزام یا کسی دوسرے قانونی اقدام تک پہنچے گا یا نہیں۔ اسد محمود یا ان کے نمائندوں کا تفصیلی مؤقف رپورٹ میں شامل نہیں تھا، اس لیے الزامات کو تحقیقاتی دعووں کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
پاکستان پوسٹ ایک وفاقی ادارہ ہے اور اس میں سرکاری ملازمتوں کی بھرتی منظور شدہ آسامیوں، متعلقہ قواعد اور حکومتی منظوریوں کے تحت ہونی چاہیے۔ اسی وجہ سے ہزاروں تقرریوں سے متعلق کسی بھی ممکنہ انتظامی بے ضابطگی کی تحقیقات سرکاری بھرتیوں، مالی ذمہ داری اور ادارہ جاتی نگرانی کے حوالے سے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ نیب کی جانب سے 10 نومبر کی پیشی کے بعد تحقیقات کی سمت اور سابق وزیر کے جواب سے معاملے کی مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے، تاہم کسی بھی قانونی نتیجے کا تعین دستیاب شواہد اور متعلقہ قانونی عمل کے بعد ہی ہوگا۔
