کوئٹہ: بلوچستان اور پنجاب کی حکومتوں نے بلوچستان میں جاری سیف سٹی منصوبوں کو جدید سکیورٹی تقاضوں کے مطابق مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات، ادارہ جاتی تعاون اور تکنیکی معاونت بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی اور پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کے درمیان ہونے والی مفاہمت کے تحت پنجاب سیف سٹی اتھارٹی بلوچستان کے متعلقہ اداروں کو تربیت، استعداد کار اور جدید تکنیکی مہارت فراہم کرے گی۔
سرکاری بیان کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے سرفراز بگٹی کی درخواست پر متعلقہ حکام کو بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کی ادارہ جاتی معاونت کی ہدایت کی۔ دونوں صوبوں نے سکیورٹی مانیٹرنگ نظام بہتر بنانے، تکنیکی تجربات کے تبادلے اور دونوں سیف سٹی اتھارٹیز کے درمیان مشترکہ تعاون کو آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
یہ پیش رفت بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کے ایک اجلاس میں سامنے آئی جس کی صدارت وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کی۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات نے اجلاس کو جاری منصوبوں کی پیش رفت سے آگاہ کیا اور بتایا کہ صوبے کے نو شہروں میں سیف سٹی اسکیموں پر کام جاری ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد نگرانی، فوری ردعمل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان معلوماتی رابطے کو بہتر بنانا ہے۔
پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل احسن یونس نے کہا کہ پنجاب بلوچستان کے اہلکاروں کو تربیت، کیپیسٹی بلڈنگ اور جدید تکنیکی معاونت فراہم کرے گا تاکہ مختلف شہروں میں منصوبوں کو فعال اور مؤثر بنایا جا سکے۔ اس تعاون میں نگرانی کے نظام چلانے، ڈیٹا کے استعمال، کمانڈ اینڈ کنٹرول طریقہ کار اور ہنگامی ردعمل کی صلاحیت بہتر بنانے جیسے شعبے شامل ہو سکتے ہیں، تاہم دستیاب بیان میں ہر تکنیکی جزو کی الگ تفصیل نہیں دی گئی۔
وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اجلاس میں کہا کہ سیف سٹی منصوبے محض کیمروں یا نگرانی تک محدود نہیں بلکہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے جدید سکیورٹی انفراسٹرکچر کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق مؤثر مانیٹرنگ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشتبہ سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی، جرائم پیشہ عناصر کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور ہنگامی حالات میں ردعمل بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
بلوچستان میں جغرافیائی وسعت، شہروں کے درمیان طویل فاصلے اور امن و امان کے چیلنجز کے باعث ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام کی تنصیب کے ساتھ تربیت یافتہ عملہ اور ادارہ جاتی رابطہ بھی اہم ہوگا۔ پنجاب کی سیف سٹی اتھارٹی کئی شہری مراکز میں ایسے نظام چلانے کا تجربہ رکھتی ہے، جسے بلوچستان اپنے مقامی حالات اور قانونی تقاضوں کے مطابق استعمال کر سکتا ہے۔
دونوں صوبائی حکومتوں کی مفاہمت کے بعد اصل امتحان منصوبوں کے عملی نفاذ، آلات کی دیکھ بھال، تربیت کے تسلسل اور معلومات کے محفوظ و قانونی استعمال کا ہوگا۔ سرکاری بیان میں تعاون کی سمت واضح کی گئی ہے، تاہم منصوبوں کی تکمیل کی حتمی مدت اور مجموعی مالی لاگت کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
