انقرہ: پاک بحریہ نے ترکیہ کی میزبانی میں منعقد ہونے والی کثیرالقومی بحری مشق ’ماوی بالینا 2026‘ میں شرکت کی ہے، جس کا مقصد شریک بحری افواج کے درمیان آبدوز شکن جنگ، سمندری نگرانی اور مشترکہ آپریشنل ہم آہنگی کو بہتر بنانا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 28 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی بحری دستے نے مشق کی مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

ماوی بالینا، جس کا ترکی زبان میں مطلب ’نیلی وہیل‘ ہے، ترکیہ کی بحریہ کی اہم تربیتی مشقوں میں شمار ہوتی ہے اور اس میں مختلف دوست ممالک کی بحری افواج کو پیچیدہ سمندری ماحول میں مشترکہ تربیت کا موقع ملتا ہے۔ آبدوزوں کی تلاش، شناخت اور نگرانی جدید بحری جنگ کا تکنیکی طور پر مشکل شعبہ ہے، اس لیے اس نوعیت کی مشقوں میں جہازوں، ہیلی کاپٹروں، سینسرز اور کمانڈ نظاموں کے درمیان مربوط کارروائی اہم ہوتی ہے۔

پاکستان نیوی کی شرکت دونوں ممالک کے دیرینہ دفاعی اور بحری تعلقات کا حصہ ہے۔ پاکستان اور ترکیہ باقاعدگی سے مشترکہ تربیت، بندرگاہی دوروں، دفاعی صنعت اور بحری پلیٹ فارمز سے متعلق تعاون کرتے رہے ہیں۔ ماوی بالینا میں شرکت سے پاکستانی اہلکاروں کو مختلف بحری افواج کے طریقہ کار کے ساتھ کام کرنے اور مشترکہ مشن پلاننگ کی عملی تربیت حاصل ہوتی ہے۔

کثیرالقومی مشقوں کا مقصد حقیقی جنگی کارروائی شروع کرنا نہیں بلکہ مختلف ممالک کے اہلکاروں کو طے شدہ تربیتی منظرناموں میں ایک دوسرے کے مواصلاتی، حربی اور حفاظتی طریقہ کار سے ہم آہنگ کرنا ہوتا ہے۔ اسی لیے ماوی بالینا 2026 کو تربیتی اور پیشہ ورانہ فوجی سرگرمی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی مخصوص ملک کے خلاف آپریشنل تعیناتی کے طور پر۔

پاکستان کے لیے سمندری سلامتی بحیرہ عرب، اہم تجارتی راستوں اور بندرگاہی سرگرمیوں کے باعث اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے۔ جدید آبدوز شکن صلاحیت، بحری نگرانی اور دوست ممالک کے ساتھ انٹرآپریبلٹی پاک بحریہ کی تربیتی ترجیحات میں شامل ہیں۔ مشق کے مکمل نتائج اور تمام شریک یونٹس کی تفصیلی سرگرمیاں متعلقہ بحری افواج کی بعد کی بریفنگز میں مزید واضح ہو سکتی ہیں۔