لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کے مزید جسمانی ریمانڈ کی پولیس درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ عدالت میں تفتیشی افسر نے مزید تحویل کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس ملزم کا پولی گراف، یعنی لائی ڈیٹیکٹر ٹیسٹ، کرانا چاہتی ہے۔

حماد اظہر کے وکیل بیرسٹر ابوذر سلمان نیازی نے عدالت میں دلیل دی کہ پولی گراف ٹیسٹ کے لیے ملزم کی رضامندی درکار ہوتی ہے اور لاہور ہائیکورٹ کے ایک فیصلے کے مطابق یہ طریقہ کار جوڈیشل ریمانڈ کے دوران بھی مکمل کیا جا سکتا ہے۔ دفاع نے مزید کہا کہ ملزم کو مجسٹریٹ کے سامنے یہ بیان دینے کا موقع ملنا چاہیے کہ وہ ٹیسٹ کے لیے رضامند ہے یا نہیں۔

عدالتی کارروائی کے دوران حماد اظہر نے کہا کہ اگر قانون انہیں انکار کا حق دیتا ہے تو وہ پولی گراف ٹیسٹ نہیں کرانا چاہتے۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سردار محمد اکرم خان نے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی اور ملزم کو جوڈیشل تحویل میں کوٹ لکھپت جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

حماد اظہر کے خلاف کارروائی جناح ہاؤس حملے سے متعلق مقدمے میں جاری ہے۔ ان پر عائد الزامات ابھی عدالتی عمل کا حصہ ہیں اور زیر سماعت مقدمے میں جرم ثابت ہونے کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ دفاعی وکیل نے فیصلے کے بعد کہا کہ ان کے موکل کا طویل جسمانی ریمانڈ ختم ہوگیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حماد اظہر کے خاندان نے ان کی گرفتاری کی تاریخ 5 ستمبر بتائی تھی، جبکہ پولیس نے ابتدائی مرحلے میں گرفتاری سے لاعلمی ظاہر کی تھی اور انہیں بعد میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس کے بعد ان کے جسمانی ریمانڈ میں متعدد بار توسیع ہوئی۔ تازہ عدالتی حکم تفتیشی تحویل کے مرحلے کو ختم کرتا ہے، تاہم مقدمہ اور اس سے متعلق الزامات اپنی قانونی کارروائی کے مطابق آگے بڑھیں گے۔