نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کے فورم پر پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی اور سول نیوکلیئر تعاون تک غیر امتیازی رسائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری سائنس توانائی، صحت، زراعت، پانی اور دیگر ترقیاتی شعبوں میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ پاکستانی نمائندے نے مؤقف اختیار کیا کہ بین الاقوامی تعاون ایسا ہونا چاہیے جس میں اہل ریاستوں کو پرامن ٹیکنالوجی کے فوائد سے محروم نہ رکھا جائے۔

پاکستان نے جوہری توانائی کو اپنی توانائی کی ضروریات اور کم کاربن بجلی کے حصول کے لیے اہم ذریعہ قرار دیا۔ ملک میں کئی سول نیوکلیئر پاور پلانٹس کام کر رہے ہیں اور حکومت مستقبل میں اس شعبے کی صلاحیت بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق محفوظ اور ذمہ دارانہ جوہری توانائی ترقی پذیر ممالک کو توانائی کے بڑھتے تقاضوں اور ماحولیاتی اہداف کے درمیان توازن قائم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

بیان میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا، خصوصاً جوہری تحفظ، حفاظتی معیارات، تکنیکی تعاون اور پرامن استعمال کے شعبوں میں۔ پاکستان طویل عرصے سے آئی اے ای اے کے ساتھ مختلف تکنیکی پروگراموں میں کام کرتا رہا ہے اور اس نے کینسر کے علاج، زرعی تحقیق، غذائی تحفظ اور پانی کے وسائل میں جوہری و تابکاری ٹیکنالوجی کے استعمال کو اپنی ترقیاتی ضروریات سے جوڑا ہے۔

پاکستانی نمائندے نے اس اصول پر زور دیا کہ عالمی عدم پھیلاؤ اور حفاظتی تقاضوں کے ساتھ ساتھ پرامن جوہری تعاون کا حق بھی متوازن انداز میں دیکھا جانا چاہیے۔ اسلام آباد کا مؤقف رہا ہے کہ سول نیوکلیئر تجارت اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کے قواعد شفاف، اصولی اور غیر امتیازی ہونے چاہییں۔

جوہری تعاون کا معاملہ عالمی سطح پر سلامتی، عدم پھیلاؤ اور توانائی کی ضروریات سے جڑا حساس موضوع ہے۔ پاکستان کے تازہ بیان میں بنیادی توجہ پرامن استعمال اور ترقیاتی فوائد پر رکھی گئی ہے۔ عملی سطح پر کسی بھی اضافی بین الاقوامی تعاون کا انحصار متعلقہ ریاستوں، اداروں اور برآمدی کنٹرول کے موجودہ بین الاقوامی انتظامات کے تحت طے ہونے والے معاہدوں اور شرائط پر ہوگا۔