نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ میں مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے قدرتی وسائل کے استحصال کو روکا جائے اور اسرائیل بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوام متحدہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ پاکستان کے مستقل مشن کے سیکنڈ سیکریٹری محمد فہیم نے جنرل اسمبلی کی دوسری کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے قدرتی وسائل پر مستقل اختیار کو ان کے حقِ خودارادیت سے جوڑا۔

پاکستانی نمائندے نے کہا کہ فلسطینی علاقوں میں زمین، پانی اور دیگر قدرتی وسائل سے متعلق پالیسیوں نے مقامی معیشت، ترقی اور مستقبل کی خوشحالی کی بنیادوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے مغربی کنارے اور دیگر مقبوضہ علاقوں، بشمول مقبوضہ شامی گولان، میں غیر قانونی بستیوں کی سرگرمیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ ان سرگرمیوں کے نتیجے میں زرعی زمین اور پانی کے وسائل متاثر ہوتے ہیں۔

عرب نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کی سابقہ قراردادوں اور کمیٹی فیصلوں میں بھی فلسطینی عوام کی قدرتی وسائل پر مستقل خودمختاری تسلیم کی گئی ہے اور مقبوضہ علاقوں میں وسائل کے استحصال کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ نومبر 2025 میں اقوام متحدہ کی اقتصادی و مالیاتی کمیٹی نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور مقبوضہ شامی گولان کے قدرتی وسائل سے متعلق حقوق کا اعادہ کیا گیا تھا۔

رواں سال جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں غزہ کی زرعی زمین اور پانی کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اگست کے وسط تک غزہ کی مجموعی زرعی زمین کا 91.7 فیصد حصہ متاثر ہو چکا تھا۔ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد ایف اے او اور اقوام متحدہ سیٹلائٹ سینٹر کے جائزے میں صرف 36.8 فیصد زرعی زمین قابل رسائی اور محض 4 فیصد زمین بیک وقت قابل رسائی اور غیر متاثر بتائی گئی۔

اسی رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈی سیلینیشن تنصیبات کو نقصان اور بجلی، ایندھن، رابطوں اور رسائی پر شدید پابندیوں نے غزہ میں تازہ پانی کی پیداوار میں نمایاں کمی کی۔ یہ اعداد اقوام متحدہ کے جائزوں پر مبنی ہیں اور جنگ زدہ علاقے میں حالات تیزی سے بدلنے کے باعث زمینی صورتحال کے نئے تخمینے سامنے آ سکتے ہیں۔

پاکستان اسرائیل کو سفارتی طور پر تسلیم نہیں کرتا اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔ تازہ بیان پاکستان کی اسی سفارتی پالیسی کا تسلسل ہے، تاہم اس اجلاس میں پاکستانی نمائندے کی توجہ بالخصوص قدرتی وسائل، معاشی ترقی اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں پر مرکوز رہی۔ کسی نئے عملی نفاذی اقدام کا اعلان نہیں ہوا، اس لیے مطالبے کی پیش رفت متعلقہ اقوام متحدہ فورمز اور رکن ممالک کے آئندہ فیصلوں سے وابستہ ہوگی۔