نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں اصلاحات کے عمل کے دوران فوج اور پولیس فراہم کرنے والے ممالک کو مؤثر اور بامعنی کردار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کے مؤقف کے مطابق امن دستے فراہم کرنے والے ممالک زمینی سطح پر مشنز کے نفاذ میں براہ راست کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے پالیسی اور مینڈیٹ سے متعلق فیصلوں میں ان کی رائے کو مناسب اہمیت ملنی چاہیے۔
پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ امن مشنز کے مینڈیٹ واضح، حقیقت پسندانہ اور دستیاب وسائل سے ہم آہنگ ہونے چاہئیں۔ اگر کسی مشن کو وسیع ذمہ داریاں دی جائیں لیکن ان کے لیے مطلوبہ اہلکار، سازوسامان، مالی وسائل یا سیاسی حمایت فراہم نہ کی جائے تو زمینی سطح پر عمل درآمد متاثر ہو سکتا ہے۔ پاکستانی مؤقف میں اسی فرق کو کم کرنے کی ضرورت اجاگر کی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے امن مشنز دنیا کے مختلف تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں جنگ بندی کی نگرانی، شہریوں کے تحفظ، سیاسی عمل کی معاونت اور ریاستی اداروں کی بحالی جیسے مختلف فرائض انجام دیتے ہیں۔ ہر مشن کا مینڈیٹ سلامتی کونسل طے کرتی ہے، جبکہ فوجی اور پولیس اہلکار بڑی حد تک رکن ممالک فراہم کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے troop- and police-contributing countries کے تجربے کو اصلاحاتی عمل میں اہم سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں اہلکار فراہم کرنے والے نمایاں ممالک میں شامل رہا ہے۔ پاکستانی فوجی اور پولیس اہلکار افریقہ، ایشیا اور دیگر خطوں میں مختلف مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس عملی تجربے کی بنیاد پر پاکستان مسلسل یہ مؤقف پیش کرتا رہا ہے کہ امن مشنز کی کامیابی کے لیے سیاسی حکمت عملی، قابل عمل مینڈیٹ، مناسب وسائل اور اہلکار فراہم کرنے والے ممالک کے ساتھ مؤثر مشاورت ایک دوسرے سے منسلک عناصر ہیں۔
حالیہ برسوں میں اقوام متحدہ کے امن آپریشنز کو مالی دباؤ، پیچیدہ مسلح تنازعات، شہریوں کے تحفظ اور اہلکاروں کی سلامتی جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ اصلاحات کے مباحث میں مشنز کی کارکردگی، اخراجات اور زمینی حالات کے مطابق ترجیحات طے کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اصلاحات صرف اخراجات کم کرنے کی مشق نہیں ہونی چاہئیں بلکہ مشنز کی عملی صلاحیت کو بھی محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
پاکستانی مطالبے کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ جو ممالک اپنے اہلکار زمینی سطح پر تعینات کرتے ہیں انہیں مینڈیٹ اور آپریشنل ترجیحات کے تعین میں بروقت مشاورت کا موقع ملے۔ اقوام متحدہ میں جاری اصلاحاتی عمل کے حتمی نتائج رکن ممالک اور سلامتی کونسل کے فیصلوں سے طے ہوں گے، تاہم پاکستان نے اپنے مؤقف میں مشاورت، وسائل اور واضح ذمہ داریوں کو کامیاب امن مشنز کی بنیادی شرائط قرار دیا ہے۔
