کراچی: سندھ میں دیہی معیشت، زرعی پیداوار اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے (UNIDO) کے تعاون سے مجوزہ پروگرام پر پیش رفت ہوئی ہے۔ متعلقہ حکام اور ترقیاتی شراکت داروں نے ایسے اقدامات پر توجہ دی ہے جن سے دیہی علاقوں میں آمدن کے مواقع، چھوٹے کاروبار، زرعی ویلیو چین اور موسمیاتی لچک کو مضبوط کیا جا سکے۔

پروگرام کا بنیادی رخ ان دیہی آبادیوں کی طرف ہے جو سیلاب، شدید گرمی، پانی کی کمی اور زرعی پیداوار میں اتار چڑھاؤ جیسے موسمیاتی خطرات سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ سندھ کو حالیہ برسوں میں شدید سیلاب اور موسمیاتی آفات کا سامنا رہا ہے، جس سے زرعی زمین، مویشی، مقامی کاروبار اور بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا۔ اسی پس منظر میں ترقیاتی منصوبوں میں صرف بحالی کے بجائے طویل مدتی معاشی استحکام اور موسمیاتی موافقت کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

UNIDO کی صنعتی اور تکنیکی مہارت کو استعمال کرتے ہوئے زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ، ذخیرہ کاری، مارکیٹ تک رسائی اور مقامی سطح پر قدر میں اضافے کے امکانات پر کام کیا جا سکتا ہے۔ اس نوعیت کے اقدامات کا مقصد کسانوں اور چھوٹے کاروباری اداروں کو خام پیداوار کی فروخت تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں ویلیو ایڈڈ مصنوعات اور بہتر منڈیوں تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ خواتین اور نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروباری مواقع بھی دیہی ترقی کے منصوبوں کا اہم جزو سمجھے جا رہے ہیں۔

موسمیاتی لچک کے حوالے سے پانی کے زیادہ مؤثر استعمال، توانائی کی بچت، صاف ٹیکنالوجی اور ایسے پیداواری طریقوں کی حوصلہ افزائی زیر غور ہے جو بدلتے موسم کے خطرات میں بھی مقامی معیشت کو فعال رکھ سکیں۔ سندھ کے متعدد اضلاع میں زرعی اور دیہی روزگار براہ راست موسم اور پانی کی دستیابی سے منسلک ہے، اس لیے معاشی ترقی اور موسمیاتی موافقت کو ایک ہی پالیسی فریم ورک میں جوڑنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کے ساتھ تعاون کا مقصد مقامی اداروں کی صلاحیت میں اضافہ اور ایسے منصوبوں کے لیے تکنیکی و مالی معاونت حاصل کرنا ہے جن کے نتائج طویل مدت تک برقرار رہ سکیں۔ پروگرام کی عملی کامیابی کا انحصار منصوبوں کے مقامی ضروریات سے مطابقت، شفاف عمل درآمد، مارکیٹ سے رابطے اور متاثرہ آبادیوں کی مؤثر شمولیت پر ہوگا۔