سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے ساتھ ال نینو سے جڑی شدید خشک سالی نے خوراک کے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے اور امدادی اداروں نے قحط کے خطرے میں اضافے کی نشاندہی کی ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جولائی سے ستمبر 2026 کے اہم بارانی موسم میں ملک بھر میں بارش تین دہائیوں سے زیادہ عرصے کی کم ترین سطح پر رہی، جس سے بارانی زراعت، فصلوں اور مویشیوں کو شدید نقصان پہنچا۔

اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ Integrated Food Security Phase Classification نے 12 اکتوبر کے الرٹ میں کہا کہ تنازع سے متاثرہ علاقوں میں قحط کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور ال نینو سے پیدا ہونے والی خشک سالی پہلے سے خراب حالات کو مزید سنگین کر رہی ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے اعدادوشمار کے مطابق شمالی دارفور میں بارش 1984 کے بعد، شمالی کردفان میں 1990 کے بعد اور جنوب مشرقی ریاست گیدارف میں 1991 کے بعد کم ترین سطح پر رہی۔

جون میں IPC نے اندازہ لگایا تھا کہ سوڈان میں 51 لاکھ افراد شدید بھوک کا سامنا کر رہے ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق خشک سالی کے باعث 2026 کے اختتام تک مزید تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار افراد شدید غذائی عدم تحفظ میں جا سکتے ہیں، جبکہ اگست 2027 تک یہ اضافی تعداد 12 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ دارفور اور کردفان کو سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

کاشتکاروں نے فصلوں کی پیداوار میں شدید کمی کی اطلاع دی ہے۔ بعض علاقوں میں زمین کا بڑا حصہ فصل دینے کے قابل نہیں رہا، جبکہ گیدارف کے ایک بڑے کاشتکار نے رائٹرز کو بتایا کہ موجودہ حالات میں پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ایک چوتھائی رہ سکتی ہے۔ چراگاہوں کی کمی اور بلند درجہ حرارت نے مویشیوں کو بھی کمزور کیا ہے۔

دوسری طرف انسانی امداد کے وسائل بھی محدود ہو رہے ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے فنڈز کی کمی کے باعث بعض مقامات پر راشن کم کیا ہے اور 17 اکتوبر تک سوڈان آپریشن کے لیے دستیاب فنڈ گزشتہ سال کے بجٹ کے نصف سے بھی کم تھا۔ ادارے کے مطابق خشک سالی سے پیدا ہونے والی اضافی بھوک سے نمٹنے کے لیے مزید 134 ملین ڈالر درکار ہیں۔ امدادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فصلوں کی پیداوار اور انسانی امداد دونوں ایک ساتھ کم ہوئیں تو جنگ سے متاثرہ آبادی کے لیے صورت حال مزید تباہ کن ہو سکتی ہے۔