صدر آصف علی زرداری نے ویتنام کے صدر تو لام، حکومت اور عوام کو ملک کے 81ویں قومی دن پر مبارکباد دیتے ہوئے پاکستان کی جانب سے دوطرفہ تعاون مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اپنے خط میں صدر نے ویتنام کی سیاسی، معاشی اور سماجی ترقی کو سراہا۔
صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان ویتنام کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں ممالک کے باہمی فائدے کے لیے تعاون کی مکمل صلاحیت استعمال کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان اور ویتنام جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا کی اہم معیشتیں ہیں اور تجارت، زراعت، ٹیکسٹائل، خوراک اور صنعتی تعاون میں امکانات رکھتے ہیں۔
دونوں ممالک اگلے سال سفارتی تعلقات کے قیام کی 55ویں سالگرہ منائیں گے۔ صدر زرداری نے اس موقع کو دوطرفہ تعلقات میں نئی رفتار دینے کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے صدر تو لام کو پاکستان کے دورے کی باضابطہ دعوت دی۔
پاکستان آسیان ممالک کے ساتھ تجارت اور اقتصادی روابط بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ویتنام عالمی مینوفیکچرنگ اور برآمدی سپلائی چین میں تیزی سے اہم ہوا ہے۔ بہتر کاروباری روابط پاکستانی کمپنیوں کو جنوب مشرقی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی اور ویتنامی کمپنیوں کو پاکستانی مارکیٹ میں مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔
قومی دن کا مبارکبادی پیغام بذات خود کوئی نیا تجارتی معاہدہ نہیں، لیکن اعلیٰ سطحی دورے کی دعوت مستقبل کی سفارتی اور اقتصادی پیش رفت کا راستہ کھول سکتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حقیقی تعاون کا اگلا مرحلہ تجارت، سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی معاہدوں میں عملی نتائج سے واضح ہوگا۔




