اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان زرعی ذخیرہ و خدمات کارپوریشن، پاسکو، کو ہدایت دی ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی اور متعلقہ اسٹیئرنگ کمیٹی کی منظور شدہ تقسیم کے مطابق صوبوں کو گندم کی فراہمی فوری شروع کی جائے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں سے بھی کہا کہ مختص گندم کی بروقت ادائیگی اور اٹھان یقینی بنائیں تاکہ منظور شدہ ذخائر عملی طور پر منڈی اور ضرورت مند علاقوں تک پہنچ سکیں۔

یہ ہدایات 3 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں ملک میں گندم کے ذخائر اور رسد کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ہونے والے اجلاس میں دی گئیں۔ اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق، وفاقی وزیر تجارت، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، متعلقہ وفاقی سیکریٹریز، صوبائی حکومتوں کے نمائندوں اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس نے حکومت کے اس پہلے سے منظور شدہ فیصلے کا اعادہ کیا کہ ضرورت پوری کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کی جائے گی۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان، ٹی سی پی، کو درآمدی عمل فوری طور پر شروع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق پہلے مرحلے میں 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا منصوبہ ہے، جس کی ترسیل نومبر 2026 میں مقرر کی گئی ہے۔

نومبر کی تاریخ مجوزہ درآمدی کھیپ کی طے شدہ ترسیل ہے، ملک میں گندم پہنچ جانے یا خریداری کا پورا معاہدہ مکمل ہونے کی تصدیق نہیں۔ سرکاری بیان میں گندم کے ملکِ مبدا، فی ٹن قیمت، ٹینڈر کی شرائط، بندرگاہ یا مختلف کھیپوں کے تفصیلی شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ان امور کی حتمی صورت ٹی سی پی کے خریداری عمل اور متعلقہ معاہدوں کے بعد واضح ہوگی۔

پاسکو سے صوبوں کو گندم کا فوری اجرا اور ٹی سی پی کے ذریعے بیرون ملک سے خریداری دو الگ اقدامات ہیں۔ پہلا قدم ملک کے اندر پہلے سے دستیاب سرکاری ذخائر کی منظور شدہ تقسیم سے متعلق ہے، جبکہ دوسرا آئندہ مہینوں کے لیے مجموعی دستیابی بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ اجلاس میں کسی صوبے کے انفرادی کوٹے یا پاسکو سے فوری جاری ہونے والی مجموعی مقدار کی تفصیل نہیں دی گئی۔

اسحاق ڈار نے متعلقہ اداروں کو قریبی رابطہ برقرار رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مقصد ملک بھر میں گندم کی مناسب دستیابی، قیمتوں میں استحکام اور صارفین کو ریلیف دینا ہے۔ انہوں نے صوبوں، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور وزارت تجارت کے درمیان گندم کی درآمد، قیمتوں کے استحکام اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے معاملات میں تعاون کو سراہا۔

حکومت کی جانب سے قیمتیں مستحکم رکھنے اور صارفین کو فائدہ پہنچانے کا بیان پالیسی ہدف ہے؛ اجلاس میں آٹے یا گندم کی کوئی نئی سرکاری خوردہ قیمت مقرر نہیں کی گئی۔ منڈی میں حتمی قیمت پر مقامی پیداوار، صوبائی اٹھان، نقل و حمل، ذخائر کے بروقت اجرا اور درآمدی گندم کی لاگت سمیت متعدد عوامل اثر انداز ہوں گے۔

صوبوں کو بروقت ادائیگی اور مختص مقدار اٹھانے کی ہدایت اس لیے اہم ہے کہ صرف کاغذی تخصیص سے رسد میں عملی اضافہ نہیں ہوتا۔ پاسکو کے ذخائر کی ترسیل کے لیے مالی ادائیگی، گاڑیوں اور گوداموں کا انتظام اور صوبائی سطح پر تقسیم ضروری ہوگی۔ تاہم اجلاس کے سرکاری خلاصے میں کسی صوبے کی تاخیر یا واجبات کی مخصوص رقم بیان نہیں کی گئی۔

اگلا قابل جانچ مرحلہ ٹی سی پی کی خریداری کارروائی، 7 لاکھ 50 ہزار ٹن کی معاہدہ شدہ مقدار اور نومبر میں حقیقی ترسیل ہوگا۔ فی الحال مصدقہ پیش رفت پاسکو کو فوری اجرا کی ہدایت، صوبوں کو ادائیگی و اٹھان کا حکم، 10 لاکھ ٹن تک درآمد کے فیصلے کا اعادہ اور پہلے مرحلے کی نومبر میں متوقع ترسیل ہے۔