اسلام آباد: وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت دسمبر اور جنوری میں بڑھنے والی گھریلو گیس طلب پوری کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی اور ضرورت پڑنے پر پائپ لائن نظام کے لیے مہنگا ایندھن اور ایل این جی بھی حاصل کی جائے گی۔ اسلام آباد میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے خاص طور پر تین وقت کھانا پکانے کے اوقات میں گھریلو صارفین کو گیس فراہم کرنے کو ترجیح قرار دیا۔

وزیر پٹرولیم کے مطابق سردیوں میں مقامی گیس کی طلب میں تقریباً 400 سے 500 ملین مکعب فٹ یومیہ اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دستیاب وسائل کو اس اضافی طلب کے مطابق منظم کرے گی اور گھریلو صارفین کو ترجیح دی جائے گی۔ ان کے مطابق نومبر کے لیے بجلی اور گیس دونوں ضروریات کے حوالے سے انتظامات موجود ہیں، جبکہ آئندہ شدید سردی کے مہینوں کے لیے متبادل آر ایل این جی انتظامات پر بھی کام جاری ہے۔

ملک نے ایل پی جی کی موجودہ قلت کو مغربی سرحد سے آنے والی سپلائی میں رکاوٹ سے جوڑا۔ ان کے مطابق پاکستان کی ایل پی جی طلب تقریباً 24 لاکھ ٹن سالانہ، یا 6,500 سے 7,000 ٹن یومیہ ہے، جبکہ مقامی پیداوار تقریباً 2,000 سے 2,500 ٹن روزانہ رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں روزانہ ضرورت کا تقریباً نصف یا اس سے زیادہ حصہ مغربی سرحد کے راستے پورا ہوتا تھا، جہاں حالیہ حالات کے باعث مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔

وزیر نے بتایا کہ درآمدی ایل پی جی کے لیے ملک میں دو اہم ٹرمینلز کے ذریعے تقریباً 14 ہزار ٹن ذخیرہ کرنے کی سہولت دستیاب ہے، تاہم بڑے گیس بردار جہازوں کو لنگر انداز کرنے اور اضافی ذخیرہ گاہوں کی کمی جیسے بنیادی ڈھانچے کے مسائل موجود ہیں۔ حکومت کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی تحفظ کا ایسا نظام تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس میں ذخیرہ، ریفائنری، ایل پی جی سپلائی چین اور متبادل درآمدی راستوں کو بہتر بنایا جائے۔

ایل پی جی کی قیمت کے بارے میں وزیر نے کہا کہ عالمی کنٹریکٹ پرائس میں نمایاں اضافے نے مقامی نرخوں پر دباؤ ڈالا ہے۔ ان کے مطابق سعودی آرامکو کی متعلقہ قیمت مارچ کے 540 ڈالر فی ٹن سے بڑھ کر 756 ڈالر فی ٹن ہوئی۔ حکومت نے اس شعبے میں مسابقت بڑھانے اور غیر رسمی چینلز پر انحصار کم کرنے کے لیے سرکاری کمپنیوں کو حکومت سے حکومت اور کاروبار سے کاروبار بنیادوں پر بڑے درآمدی معاہدے کرنے کی ہدایت دی ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے متعلق ملک نے عالمی منڈی میں حالیہ کمی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید ریلیف کا امکان ظاہر کیا، تاہم کوئی حتمی نئی قیمت اس پریس کانفرنس میں مقرر نہیں کی گئی۔ اس لیے آئندہ قیمتوں میں کمی کو حکومتی عندیہ سمجھا جائے گا، حتمی فیصلہ متعلقہ قیمتوں کے باضابطہ نوٹیفکیشن کے بعد ہی واضح ہوگا۔