کراچی: عمان کے ساحل کے نزدیک ستمبر میں ایک آئل ٹینکر پر حملے میں جان سے جانے والے پاکستانی میرین انجینئر محمد حماد عبیدہ کے اہل خانہ نے ان کی میت پاکستان منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خاندان کے مطابق تقریباً ایک ماہ گزرنے کے باوجود تدفین کے لیے میت واپس نہیں پہنچ سکی۔ اس معاملے میں دفتر خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ عمان کے ایک مردہ خانے میں پاکستانی اور بھارتی ملاحوں کی لاشیں شناخت کے لیے ڈی این اے جانچ کی منتظر ہیں۔
روزنامہ ڈان کی 12 اکتوبر کو شائع رپورٹ کے مطابق 34 سالہ حماد عبیدہ پاناما کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم ٹی ایل گائیا پر تھرڈ انجینئر تھے۔ بحری جہاز کو 13 ستمبر کو عمان کے مسندم جزیرہ نما کے قریب حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حملے کے حالات کے متعلق مختلف میڈیا اداروں کی اطلاعات میں فرق پایا جاتا ہے؛ اس لیے اس واقعے کے ذمہ دار کا نام قطعی طور پر متعین نہیں کیا جاسکتا۔ امریکی اور ایرانی حکام نے حملے سے متعلق ایک دوسرے پر الزام لگایا تھا، تاہم یہ دعوے کسی حتمی تحقیق کے نتائج نہیں ہیں۔
حماد کے خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں اس سانحے کی اطلاع 26 ستمبر کو ایک ساتھی کے ذریعے ملی۔ خاندان میں ان کی اہلیہ، تین سالہ بیٹا اور دیگر رشتہ دار شامل ہیں جبکہ اہلیہ دوسرے بچے کی پیدائش کی منتظر ہیں۔ اہل خانہ نے حکومتی اداروں سے درخواست کی ہے کہ شناخت اور میت کی واپسی کے مراحل جلد مکمل کیے جائیں تاکہ تدفین ہوسکے۔
حماد کے بھائی فواد کے مطابق انہوں نے عمان میں پاکستانی سفارت خانے، دفتر خارجہ اور دیگر حکومتی سطحوں پر رابطے کیے، لیکن خاندان کو پیش رفت کے بارے میں واضح جواب ملنے میں دشواری رہی۔ فواد نے بتایا کہ سفارت خانے کی جانب سے انہیں بتایا گیا تھا کہ دو لاشیں ڈی این اے ٹیسٹ کی منتظر ہیں اور خاندان کا نمونہ جمع کرنے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ یہ بات خاندان کے بیان کی بنیاد پر رپورٹ ہوئی ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے ڈان کو بتایا کہ ایک پاکستانی اور ایک بھارتی ملاح کی لاشیں عمان کے اسپتال کے مردہ خانے میں موجود ہیں۔ ترجمان کے مطابق لاشوں کی حالت کے باعث ظاہری شناخت ممکن نہیں اور ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت سے وطن واپسی کا عمل تاخیر کا شکار ہوا ہے۔ اس وضاحت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ شناخت کا طریقہ مکمل ہوئے بغیر کسی حتمی حوالگی یا منتقلی کی تاریخ بتانا مناسب نہیں۔
یہ واقعہ سمندر میں کام کرنے والے پاکستانی کارکنوں اور ان کے خاندانوں کے لیے جنگی یا سلامتی سے متعلق واقعات کے بعد قونصلر رابطے، قابل اعتماد معلومات اور قانونی شناخت کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔ خاندان کی فوری درخواست میت کی باعزت واپسی ہے جبکہ متعلقہ حکام کے بیان کے مطابق ضروری فرانزک مرحلہ ابھی باقی ہے۔
