گوادر: بلوچستان کے ضلع پنجگور کے پروم علاقے میں سکیورٹی فورسز نے انسانی اسمگلنگ کی ایک مبینہ کوشش ناکام بناتے ہوئے 173 غیر دستاویزی افغان شہریوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ ڈان نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ افراد پاکستان کے راستے ایران اور وہاں سے ترکی یا یورپی ممالک جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
حکام کے مطابق گرفتار افراد کے پاس پاکستان میں قیام یا سفر کے لیے مطلوبہ دستاویزات موجود نہیں تھیں۔ کارروائی کے بعد انہیں مزید قانونی عمل کے لیے پولیس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں گرفتار افراد کے خلاف مخصوص دفعات یا کسی مبینہ اسمگلر کی گرفتاری کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اس مرحلے پر ان نکات کے بارے میں مزید نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
سرکاری ذرائع نے کہا کہ افغانستان میں معاشی اور سماجی مشکلات سمیت مختلف عوامل کے باعث بعض افغان شہری انسانی اسمگلروں کے نیٹ ورکس کا شکار ہو جاتے ہیں اور پاکستان کے جنوب مغربی زمینی راستوں کو استعمال کرتے ہوئے ایران، ترکی اور بعد ازاں یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے سفر میں قانونی خطرات کے ساتھ صحرائی اور دشوار گزار علاقوں سے گزرنے کی وجہ سے انسانی جانوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
پنجگور بلوچستان کے مغربی حصے میں واقع ہے اور ایران کی سمت جانے والے راستوں کے قریب ہونے کی وجہ سے غیر قانونی سرحدی نقل و حرکت کے خلاف کارروائیوں میں اس ضلع کی جغرافیائی اہمیت ہے۔ پروم کا علاقہ بھی اسی وسیع سرحدی خطے کا حصہ ہے جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے وقتاً فوقتاً غیر دستاویزی سفر، اسمگلنگ اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔
ایک سرکاری اہلکار نے کہا کہ سکیورٹی فورسز انسانی اسمگلنگ روکنے کے لیے نگرانی جاری رکھیں گی اور اس نوعیت کی سرگرمیوں کے خلاف مزید کارروائیاں کی جائیں گی۔ تاہم موجودہ واقعے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ 173 افراد کو کس مقام سے، کس ذریعے نقل و حمل کے دوران یا کن مبینہ سہولت کاروں کے ساتھ پکڑا گیا۔
انسانی اسمگلنگ اور تارکین وطن کی اسمگلنگ سے متعلق معاملات میں گرفتار یا روکے گئے افراد کی قانونی حیثیت، ان کے سفر کے حالات اور مبینہ سہولت کاروں کا کردار الگ الگ قانونی جانچ کا تقاضا کرتا ہے۔ اس لیے حکام کی جانب سے انسانی اسمگلنگ کی کوشش قرار دی گئی اس کارروائی میں گرفتار افغان شہریوں کے خلاف حتمی قانونی نتیجہ متعلقہ تفتیش اور عدالتی یا انتظامی عمل کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
فی الحال تصدیق شدہ سرکاری معلومات اتنی ہیں کہ پروم میں کارروائی کے دوران 173 غیر دستاویزی افغان شہری حراست میں لیے گئے اور انہیں مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کیا جانا ہے۔

