اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز، کے زچہ و بچہ وارڈ میں آگ سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد وفاقی دارالحکومت کے اہم سرکاری اداروں میں فائر سیفٹی اور ہنگامی تیاری کی مشقیں شروع کر دی گئی ہیں۔ 4 ستمبر 2026 کو کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، سی ڈی اے، نے پارلیمنٹ ہاؤس میں خصوصی فرضی فائر ڈرل کی، جبکہ وفاقی آئینی عدالت نے افسران اور عملے کے لیے ایک روزہ حفاظتی و ہنگامی تربیتی نشست منعقد کی۔

پارلیمنٹ ہاؤس کی مشق میں عمارت کے اندر فرضی طور پر آگ لگنے کی صورتحال پیدا کی گئی۔ سی ڈی اے کے مطابق اس کا مقصد انخلا کے طریقہ کار، ابتدائی ہنگامی ردعمل، متعلقہ اداروں تک بروقت اطلاع، ریسکیو کارروائی اور دیگر بنیادی حفاظتی انتظامات کو عملی طور پر جانچنا تھا۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے افسران اور اہلکار مشق میں شریک ہوئے اور سی ڈی اے کی فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ٹیم کے ساتھ کام کیا۔

مشق کے دوران یہ بھی دیکھا گیا کہ کسی ہنگامی واقعے میں عمارت کے اندر موجود افراد کو محفوظ راستوں سے کیسے نکالا جائے، ریسکیو ٹیموں کو کتنی جلد اطلاع پہنچتی ہے اور مختلف ذمہ دار اداروں کے درمیان رابطہ کس طرح قائم رہتا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق ایسی ڈرل کا ایک مقصد موجودہ انتظامات میں عملی کمزوریاں تلاش کرنا ہے، تاکہ حقیقی حادثے سے پہلے ان کی اصلاح کی جا سکے۔

وفاقی آئینی عدالت کی تربیت میں سی ڈی اے کی کیپیٹل ایمرجنسی سروس کے ڈائریکٹر محمد احسن نے اسلام آباد کے ہنگامی ردعمل کے نظام اور مختلف اداروں کے درمیان مربوط کارروائی کے طریقہ کار پر بریفنگ دی۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر طارق مسعود نے آگ کی مختلف اقسام، مناسب آگ بجھانے کے طریقوں، ذاتی تحفظ، محفوظ انخلا، ہنگامی منصوبہ بندی اور متبادل انتظامات کی وضاحت کی۔

عدالتی افسران اور عملے کو آگ بجھانے والے آلات کے درست اور محفوظ استعمال کی عملی تربیت بھی دی گئی۔ جسٹس علی باقر نجفی اور رجسٹرار محمد حفیظ اللہ خان اس موقع پر موجود تھے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ تربیت کا مقصد موجودہ حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینا اور ان میں مزید بہتری کے اقدامات شناخت کرنا ہے۔

یہ مشقیں پمز میں 26 اگست کو پیش آنے والے سانحے کے بعد ہوئیں۔ وزیراعظم کو پیش کی گئی عبوری تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ہسپتال میں آگ یا دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تفصیلی معیاری عملی طریقہ کار اور مناسب تربیت موجود نہیں تھی۔ رپورٹ نے باقاعدہ فرضی مشقوں اور ادارہ جاتی تیاری کی ضرورت کو نمایاں کیا۔ سانحے کی ذمہ داری، فوجداری یا محکمانہ کارروائی اور متاثرہ خاندانوں سے متعلق فیصلے الگ تحقیقاتی و قانونی مراحل کا حصہ ہیں۔

پارلیمنٹ ہاؤس کی ڈرل اور وفاقی آئینی عدالت کی تربیت کسی عمارت کو مستقل فائر سیفٹی کلیئرنس ملنے کی ضمانت نہیں۔ فرضی مشق ہنگامی ردعمل کا عملی امتحان ہے، جبکہ مکمل فائر سیفٹی میں فعال الارم، آگ بجھانے کا سامان، واضح اور بلا رکاوٹ اخراجی راستے، مناسب پانی و اسپرنکلر نظام، تربیت یافتہ عملہ، باقاعدہ معائنہ اور خامیوں کی بروقت درستگی بھی شامل ہوتی ہے۔

سی ڈی اے نے پمز سانحے کے بعد اسلام آباد میں فائر اور لائف سیفٹی معیارات کے نفاذ کو بھی تیز کیا ہے۔ الگ کارروائیوں میں مختلف عمارتوں کا معائنہ، نوٹس، سیلنگ اور جرمانے کیے گئے ہیں۔ تاہم تازہ خبر کا مرکزی واقعہ 4 ستمبر کو دو اہم وفاقی اداروں میں ہونے والی مشق اور تربیت ہے، نہ کہ سابقہ سیلنگ کارروائیاں یا پمز آگ کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ۔

حفاظتی مشقوں کا اصل فائدہ اس وقت سامنے آتا ہے جب ان کے دوران سامنے آنے والی خامیوں کو تحریری طور پر درج کرکے ذمہ دار افسر، اصلاح کی مدت اور دوبارہ جانچ مقرر کی جائے۔ سرکاری بیانات میں دونوں سرگرمیوں کی تکمیل کی تصدیق کی گئی ہے، لیکن تمام مشاہدات، ردعمل کے اوقات یا بعد کی اصلاحی فہرست عوامی طور پر جاری نہیں کی گئی۔