پشاور: دیر کالونی کے علاقے میں قائم نجی تعلیمی ادارے الخیر ایجوکیشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے میں 34 طلبہ اور ایک خاتون استاد جاں بحق ہوگئے، جبکہ متعدد بچے زخمی ہوئے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حادثے کے وقت عمارت میں تقریباً 110 بچے موجود تھے اور جاں بحق ہونے والے تمام طلبہ کی عمریں 13 سال سے کم تھیں۔ مختلف ابتدائی سرکاری اور اسپتال ذرائع سے ہلاکتوں کے اعداد میں فرق سامنے آیا تھا، تاہم رائٹرز نے 16 اکتوبر کی اپنی رپورٹ میں مجموعی طور پر 35 ہلاکتوں کی تصدیق کی۔
پولیس کے مطابق عمارت کا ڈھانچہ کمزور تھا اور چھت پر اضافی تعمیراتی بوجھ حادثے کا سبب بنا۔ پشاور پولیس کے سربراہ میاں سعید نے بتایا کہ اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے ابھی حتمی تحقیقاتی رپورٹ جاری نہیں کی، اس لیے عمارت کی کمزوری اور اضافی بوجھ سے متعلق تفصیل کو پولیس کی ابتدائی تشخیص کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
حادثے کے فوراً بعد مقامی رہائشیوں، ریسکیو اہلکاروں اور دیگر امدادی ٹیموں نے ملبہ ہٹانے اور بچوں کو نکالنے کا کام کیا۔ رائٹرز کے مطابق 45 زخمی بچوں میں سے بیشتر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا، جبکہ تین کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔ تنگ گلیوں اور گنجان آبادی نے امدادی کارروائی کو مشکل بنایا۔ متاثرہ خاندانوں نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی مؤثر نگرانی کا مطالبہ کیا ہے۔
واقعے کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے حفاظتی جائزے کے لیے اقدامات شروع کیے۔ صوبائی ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن حکام نے کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ سے کہا کہ اضلاع میں تکنیکی ٹیمیں تشکیل دے کر سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا جامع معائنہ کیا جائے۔ صوبائی تعلیمی مشاورتی کونسل کے رکن ڈاکٹر سید عامر عبداللہ نے بھی حفاظتی قواعد و ضوابط کا جائزہ لینے، ان پر عمل درآمد کے لیے جامع طریقہ کار بنانے اور تعلیمی عمارتوں کا سروے کرانے کی ہدایت کی۔
اس سانحے نے کم لاگت نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں، رجسٹریشن، تعمیراتی معیار اور حفاظتی نگرانی کے بارے میں دوبارہ سوالات اٹھائے ہیں۔ حکام کی جانب سے فیکٹ فائنڈنگ اور عمارتوں کے معائنے کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ حادثے میں ادارہ جاتی غفلت، تعمیراتی خلاف ورزی یا نگرانی کی ناکامی کس حد تک شامل تھی۔ فی الحال پولیس کی کارروائی، مالک کی گرفتاری اور صوبائی سطح پر حفاظتی معائنے اس واقعے کے بعد کیے گئے اہم اقدامات ہیں۔
