پشاور: خیبر پختونخوا میں بچوں کے لیے پہلے مخصوص 300 بستروں کے پشاور چلڈرن ہسپتال کو فعال کرنے کا عمل عمارت کی حوالگی اور آپریشنل فنڈنگ میں تاخیر کے باعث رکا ہوا ہے۔ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق موجودہ مالی سال کے لیے 2.9 ارب روپے سالانہ آپریشنل فنڈز اور بجلی کے جنریٹرز کی خریداری کے لیے ایک مرتبہ 50 کروڑ روپے کی درخواست کی گئی ہے۔
خیبر انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اور اس سے منسلک چلڈرن ہسپتال کا منصوبہ وفاقی حکومت نے تقریباً 14 برس قبل شروع کیا تھا اور ابتدائی طور پر اسے تین سال میں مکمل ہونا تھا۔ تاہم ہسپتال ابھی تک مریضوں کے لیے فعال نہیں ہو سکا۔ پاکستان پیڈیاٹرکس ایسوسی ایشن کے ایک سینئر رکن نے بتایا کہ توقع تھی کہ ہسپتال یکم ستمبر کو شروع ہو جائے گا، مگر کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے عمارت متعلقہ حکام کے حوالے نہیں کی گئی۔
محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عمارت کی حوالگی بنیادی شرط ہے اور اس کے بعد ضروری فنڈز دستیاب ہوں تو ہسپتال کو نسبتاً مختصر مدت میں فعال کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق تعمیراتی کام کے لیے پی سی ون کے تحت فنڈز فراہم کیے جا چکے ہیں، لیکن بعض کام ابھی مکمل ہونا باقی ہیں۔ ایک الگ سمری میں ہسپتال کے آپریشنل اخراجات کے لیے 4 ارب روپے کی درخواست بھی منظوری کے عمل میں بتائی گئی ہے۔
ہسپتال کو میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن کا درجہ بھی دیا گیا ہے اور اس کا بورڈ آف گورنرز قائم ہے۔ اس انتظام کا مقصد ادارے کو فیصلہ سازی میں زیادہ خود مختاری دینا ہے، تاہم چونکہ یہ نیا ہسپتال ہے، اس لیے ابتدائی مرحلے میں سرکاری فنڈنگ کی ضرورت برقرار رہے گی۔
صحت حکام کے مطابق یہ ادارہ بچوں کے علاج کے ساتھ پیڈیاٹرکس میں ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل عملے کی تربیت کے لیے بھی استعمال ہوگا۔ منصوبے سے بچوں کی ذیلی تخصصات میں پوسٹ گریجویٹ تربیت کے مواقع صوبے کے اندر بڑھانے کی توقع کی جا رہی ہے۔
فنڈز اور عمارت کی حوالگی سے متعلق اعداد و دعوے محکمہ صحت کے ذرائع اور طبی تنظیم کے نمائندے سے منسوب ہیں۔ ہسپتال کے فعال ہونے کی حتمی تاریخ ابھی طے شدہ نہیں، اور اس کا آغاز تعمیراتی ذمہ داریوں کی تکمیل، باضابطہ حوالگی، آپریشنل بجٹ اور ضروری آلات و عملے کی دستیابی پر منحصر ہوگا۔

