پشاور: دیر کالونی میں نجی اسکول کی عمارت کی چھت گرنے کے مہلک واقعے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے اسکول مالک کو ناقص تعمیراتی مواد استعمال کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور متعلقہ سرکاری محکموں کی غفلت کی بھی نشاندہی کی ہے۔ انکوائری رپورٹ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت اجلاس میں پیش کی گئی۔

حکام کے مطابق اس سانحے میں کم از کم 30 بچے اور ایک استاد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ ریسکیو حکام نے واقعے کے بعد بتایا تھا کہ ایک کلاس روم کی چھت اس وقت طلبہ پر آ گری جب اوپر والی منزل کی چھت نے وزن چھوڑ دیا، جس کے نتیجے میں عمارت کی دو منزلوں کا حصہ منہدم ہو گیا۔ واقعے کے بعد گورنر نے باضابطہ تحقیقات کا حکم دیا تھا تاکہ تعمیراتی معیار، نگرانی اور ذمہ داری کے تعین سے متعلق حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

گورنر ہاؤس کی جانب سے جاری سرکاری بیان کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اسکول مالک کی جانب سے غیر معیاری تعمیراتی مواد کے استعمال کو واقعے کا ایک اہم سبب قرار دیا۔ اجلاس کو متعلقہ محکموں کی مبینہ غفلت کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ رپورٹ میں کن محکموں یا اہلکاروں کے خلاف کس نوعیت کی ذمہ داری مقرر کی گئی ہے، اس کی مکمل تفصیل فوری طور پر عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئی۔

اجلاس میں گورنر کے مشیر ڈاکٹر امیر عبداللہ، چیف سیکریٹری ڈاکٹر فخر عالم عرفان، سیکریٹری تعلیم عنایت اللہ وسیم اور تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان شریک ہوئے۔ کمیٹی نے واقعے کے اسباب، متعلقہ اہلکاروں کے بیانات، مختلف اداروں کی ذمہ داریوں، اپنی تحقیقات کے نتائج اور سفارشات پر بریفنگ دی۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے حکام کو ہدایت کی کہ رپورٹ کے قانونی پہلوؤں کا محکمہ قانون سے مشاورت کے بعد جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول عمارت کے انہدام کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ تاہم آئندہ قانونی یا انتظامی کارروائی انکوائری رپورٹ، قابل اطلاق قوانین اور متعلقہ افراد کو دستیاب قانونی حقوق کے تحت ہوگی۔

انکوائری کمیٹی کی ذمہ داری سے متعلق رائے انتظامی تحقیق کا نتیجہ ہے؛ کسی فرد کی فوجداری ذمہ داری یا جرم کا حتمی تعین عدالت یا مجاز قانونی فورم پر شواہد کی جانچ کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ سانحے نے نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے معیار، تعمیراتی نگرانی اور سرکاری محکموں کے معائنے کے نظام پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں، خصوصاً ایسے اداروں میں جہاں روزانہ بڑی تعداد میں بچے زیر تعلیم ہوتے ہیں۔