پشاور: حکام نے صوبائی دارالحکومت میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کے لیے یکم نومبر سے آپریشن شروع کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ ڈان میں شائع ہونے والی اے پی پی رپورٹ کے مطابق اس کارروائی کے لیے 120 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور انتظامی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پشاور کو کارروائی کے انتظام کے لیے پانچ سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سکیورٹی فورسز، پولیس، وفاقی انٹیلی جنس ادارے اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) اس عمل میں شریک ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تشکیل دی گئی ٹیمیں منصوبے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہیں۔
اس کارروائی کا ہدف رپورٹ کے مطابق وہ افغان شہری ہیں جو پاکستان میں قانونی دستاویزات کے بغیر مقیم ہیں۔ اس لیے تمام افغان شہریوں کو بلا امتیاز اس کارروائی کا ہدف قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ کسی فرد کی قانونی حیثیت اور اس کے خلاف کارروائی متعلقہ دستاویزات، حکومتی پالیسی اور نافذ قواعد کے تحت طے ہونی چاہیے۔
پاکستان میں افغان شہریوں کی واپسی اور دستاویزی حیثیت کا معاملہ حالیہ برسوں میں اہم انتظامی اور سفارتی موضوع رہا ہے۔ خیبر پختونخوا، خصوصاً پشاور، طویل عرصے سے بڑی افغان آبادی کی میزبانی کرتا آیا ہے۔ سرحدی نقل و حرکت، سکیورٹی صورتحال اور پاکستان و افغانستان کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ نے اس مسئلے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
تازہ منصوبے میں 120 ٹیموں اور پانچ انتظامی سیکٹرز کی تشکیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام کارروائی کو منظم انداز میں انجام دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ تاہم رپورٹ میں یکم نومبر سے پہلے کسی وسیع پیمانے کی گرفتاری یا واپسی مکمل ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی، اس لیے اس مرحلے پر خبر منصوبہ بند آپریشن اور اس کی تیاریوں سے متعلق ہے۔
افغان شہریوں کی واپسی انسانی اور قانونی پہلو بھی رکھتی ہے۔ کسی بھی کارروائی میں رجسٹرڈ مہاجرین، قانونی ویزا رکھنے والوں اور غیر دستاویزی افراد کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ یکم نومبر کے بعد عملی کارروائی کے اعداد و شمار اور سرکاری وضاحتوں سے اس منصوبے کے دائرہ کار اور نتائج مزید واضح ہوں گے۔

