اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نئی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں مہنگے کر دیے ہیں۔ پیٹرول کی قیمت میں 12 روپے 90 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی خوردہ قیمت 358 روپے 77 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 72 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا اور نئی قیمت 381 روپے 77 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 8 ستمبر 2026 سے ہو گیا ہے۔ حکومت پیٹرول پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی مد میں مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے۔ موجودہ قیمتوں میں تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی تیل منڈی میں مسلسل اتار چڑھاؤ اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بدل رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت رواں سال 3 اپریل کو 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح تک پہنچ گئی تھی، جبکہ فروری کے آخر میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد اس کی قیمت 281 روپے فی لیٹر سے تیزی سے بڑھی۔ اسی طرح پیٹرول کی قیمت بھی مارچ کے پہلے ہفتے میں 266 روپے فی لیٹر کے قریب سے بڑھتے ہوئے اپریل میں 458 روپے 41 پیسے کی بلند سطح تک پہنچی تھی۔ بعد میں عالمی منڈی میں تبدیلیوں کے ساتھ مقامی قیمتوں میں بھی کمی بیشی ہوتی رہی۔

حکومت نے جولائی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا طریقۂ کار تبدیل کرتے ہوئے انہیں عالمی منڈی کی نقل و حرکت کے مطابق زیادہ کثرت سے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس پالیسی کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو بین الاقوامی قیمتوں اور دیگر متعلقہ عوامل کی بنیاد پر نرخوں کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی۔ اس سے پہلے قیمتوں میں تبدیلی ہفتہ وار بنیاد پر کی جا رہی تھی۔

پیٹرول بنیادی طور پر نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی ٹرانسپورٹ میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ شہری اور متوسط طبقے کے روزمرہ اخراجات پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تبدیلی مال برداری، پبلک ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری، بجلی پیدا کرنے والے بڑے جنریٹرز اور صنعتی لاگت کو متاثر کرتی ہے، جس کے نتیجے میں اشیا کی ترسیل اور مجموعی مہنگائی پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

حکومتی اعلان کے بعد صارفین اور کاروباری شعبے کی توجہ اب عالمی خام تیل کی قیمتوں، روپے کی قدر اور آئندہ سرکاری نظرِ ثانی پر مرکوز رہے گی، کیونکہ ان عوامل میں تیز تبدیلی پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کو دوبارہ متاثر کر سکتی ہے۔