اسلام آباد: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک اور کمی کرتے ہوئے پیٹرول 9 روپے 41 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 5 روپے 56 پیسے فی لیٹر سستا کر دیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 6 نومبر سے ہوگا۔

نئی قیمت کے تحت پیٹرول 352 روپے 59 پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 382 روپے 25 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ یہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل چوتھی کمی ہے، جس سے ٹرانسپورٹ اور روزمرہ سفر کے اخراجات پر کچھ دباؤ کم ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے، تاہم حتمی اثر دیگر لاگتوں اور مارکیٹ حالات پر منحصر ہوگا۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق حکومت پیٹرول پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی مد میں مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے۔ قیمتوں کے تعین میں بین الاقوامی منڈی، مقامی ٹیکسوں اور حکومتی انتظامات سمیت مختلف عوامل شامل رہتے ہیں۔

حکومت نے اس ہفتے کے آغاز میں 30 روز کے لیے ایک انتظام کا بھی اعلان کیا تھا جس کے تحت آئل ریفائنریز پیٹرولیم لیوی کے بوجھ میں حصہ ڈالیں گی۔ حکومتی مؤقف کے مطابق اس انتظام کا مجموعی مالی اثر 15 ارب روپے ہے اور اس کے ذریعے صارفین تک پیٹرول کی قیمت میں اضافی ریلیف منتقل کرنے کی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔

پاکستان میں پیٹرول بنیادی طور پر نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں تبدیلی براہ راست شہری سفر اور گھریلو بجٹ کو متاثر کرتی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، بجلی کے بعض ذرائع اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے، جس کی قیمت مال برداری اور کاروباری لاگت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

حالیہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی تیل منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں نمایاں طور پر تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ حکومت نے اس پس منظر میں قیمتوں کے تعین کا نظام زیادہ کثرت سے استعمال کیا اور صارفین کے بعض طبقات کے لیے ہدفی ریلیف اسکیمیں بھی متعارف کرائیں۔ نئی کمی کے بعد مارکیٹ کی توجہ اس بات پر رہے گی کہ عالمی خام تیل کی قیمتوں اور روپے کی قدر میں آئندہ تبدیلیاں مقامی نرخوں پر کیا اثر ڈالتی ہیں۔