اسلام آباد: سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے اکتوبر 2026 کے دوران 5,003 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی، جس کے بعد ملک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 321,794 ہو گئی۔ ادارے کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹریشن کا تقریباً پورا عمل ڈیجیٹل ذرائع سے مکمل ہوا اور 99.9 فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹر ہوئیں۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی کمپنیوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس سے وابستہ کاروبار نمایاں رہے۔ یہ رجحان پاکستان میں خدمات، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل کاروباری سرگرمیوں کے پھیلاؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ مختلف شعبوں میں کارپوریٹ رجسٹریشن کا اضافہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ باضابطہ کمپنی کی حیثیت کاروبار کو بینکاری، سرمایہ کاری، ٹیکس اور معاہداتی معاملات کے لیے ایک باقاعدہ قانونی ڈھانچہ فراہم کرتی ہے۔
ایس ای سی پی کے مطابق اکتوبر میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے وابستہ نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن بھی ہوئی اور چین سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کار اس زمرے میں نمایاں رہے۔ تاہم کمپنی کی رجسٹریشن بذات خود اس بات کی ضمانت نہیں کہ متعلقہ کاروبار نے فوری طور پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری یا تجارتی سرگرمی شروع کر دی ہے؛ یہ اعداد و شمار قانونی اندراج اور کارپوریٹ تشکیل کی پیمائش کرتے ہیں۔
کمیشن حالیہ برسوں میں کمپنی رجسٹریشن کے عمل کو ڈیجیٹل بنانے، نام کی منظوری اور دستاویزات کی آن لائن فراہمی پر توجہ دیتا رہا ہے۔ اکتوبر کے اعداد و شمار میں 99.9 فیصد آن لائن رجسٹریشن اس تبدیلی کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔ ڈیجیٹل عمل سے درخواست گزاروں کے لیے جسمانی دفاتر پر انحصار کم ہوتا ہے، جبکہ ریگولیٹر کے لیے درخواستوں کا ریکارڈ اور جانچ ایک مرکزی نظام میں رکھنا ممکن ہوتا ہے۔
رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد میں اضافہ رسمی معیشت کے دائرے میں نئے اداروں کے داخلے کا ایک اشارہ ہے، لیکن کاروباری ماحول کی مکمل تصویر کے لیے فعال کمپنیوں کی تعداد، سرمایہ کاری کے حجم، روزگار، ٹیکس ادائیگی اور کاروبار کی بقا جیسے دیگر اشاریوں کو بھی ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ ایس ای سی پی کے تازہ اعداد و شمار فی الحال اکتوبر میں ہونے والی قانونی رجسٹریشن اور شعبہ جاتی تقسیم کی صورتحال بیان کرتے ہیں۔
