پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے بچوں کی تحویل سے متعلق ایک مقدمے میں قرار دیا ہے کہ ماں کی دوسری شادی کو بذات خود اس سے بچے کی تحویل واپس لینے کی حتمی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ تحویل کے تنازعات میں بنیادی اور فیصلہ کن معیار نابالغ کی فلاح، بہبود اور مجموعی بہتری ہے، نہ کہ والدین میں سے کسی ایک کا ترجیحی دعویٰ۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق جسٹس محمد نعیم انور پر مشتمل سنگل بنچ نے کوہاٹ کے ایک رہائشی کی نظرثانی درخواست نمٹاتے ہوئے اس کے نابالغ بیٹے کی تحویل اسے دینے سے انکار کیا، تاہم والد کو ملاقات کے حقوق دیے گئے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بچے کی موجودہ صورتحال، جذباتی وابستگی، مستحکم ماحول، تعلیمی ضروریات اور مجوزہ تحویلی انتظامات کی تقابلی موزونیت کا معروضی جائزہ لینا ضروری ہے۔

عدالت کے مطابق بچوں کی تحویل کے مقدمات میں والد یا والدہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے قانونی یا ترجیحی حقوق سے بڑھ کر بچے کی فلاح کو مقدم رکھا جاتا ہے۔ اس اصول کے تحت کسی ایک عامل، بشمول ماں کی دوسری شادی، کو خودکار طور پر ایسا فیصلہ کن سبب نہیں بنایا جا سکتا جس کے نتیجے میں بچے کا موجودہ تحویلی انتظام تبدیل کر دیا جائے۔

فیصلے کی اہمیت اس پہلو سے بھی ہے کہ خاندانی مقدمات میں بعض اوقات دوبارہ شادی کو تحویل کے حق کے خلاف بنیادی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ پشاور ہائیکورٹ نے اس معاملے میں عمومی اور خودکار اصول اپنانے کے بجائے بچے کی مخصوص ضروریات اور حالات کا جائزہ لینے پر زور دیا ہے۔ عدالت نے والد کو مکمل طور پر بچے سے الگ نہیں کیا بلکہ ملاقات کا حق دے کر دونوں پہلوؤں میں توازن برقرار رکھا۔

دستیاب عدالتی رپورٹ میں فریقین کی نجی شناخت اور بچے سے متعلق غیر ضروری ذاتی تفصیلات نمایاں نہیں کی گئیں۔ فیصلے کا مرکزی قانونی نکتہ یہی ہے کہ دوسری شادی اکیلی تحویل ختم کرنے کے لیے کافی نہیں اور عدالت کو ہر مقدمے میں نابالغ کے بہترین مفاد کو الگ سے جانچنا ہوگا۔

یہ فیصلہ کسی نئے قانون کے نفاذ کا اعلان نہیں بلکہ ایک مخصوص نظرثانی درخواست میں ہائیکورٹ کی عدالتی تشریح اور اطلاق ہے۔ اس لیے اسے ہر ممکن تحویلی تنازعے کا خودکار نتیجہ سمجھنے کے بجائے بچے کی فلاح کو مرکزی معیار بنانے والے عدالتی اصول کی تازہ مثال کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔