پشاور ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی گئی ہے جس میں خیبر پختونخوا کی جیلوں میں قیدیوں کو بروقت اور مناسب طبی سہولتیں فراہم کرنے، تمام مرکزی و ضلعی جیلوں کا آزاد طبی آڈٹ کرانے اور سنگین مریضوں کے لیے باقاعدہ ریفرل نظام بنانے کے احکامات مانگے گئے ہیں۔ ڈان کے مطابق درخواست سینئر وکیل شبیر حسین گیگیانی نے دائر کی۔ عدالت نے ابھی درخواست میں اٹھائے گئے دعووں پر کوئی حتمی فیصلہ یا حکم جاری نہیں کیا۔
درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ زیرحراست یا سزا یافتہ شخص اپنی آزادی محدود ہونے کے باوجود آئین کے تحت زندگی اور انسانی وقار کے حقوق رکھتا ہے، جبکہ علاج کے لیے بڑی حد تک ریاست پر منحصر ہوتا ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ عدالت قرار دے کہ صوبے کی جیلوں میں موجود ہر شخص بروقت، کافی اور طبی ضرورت کے مطابق علاج کا حق دار ہے۔ یہ درخواست گزار کی قانونی استدعا ہے جس پر فریقین کے جواب اور عدالتی سماعت کے بعد ہی فیصلہ ہوسکے گا۔
درخواست میں حالیہ عرصے کے دوران پشاور سینٹرل جیل میں دو قیدیوں، فضل الرحمان اور ظاہر شاہ، کی مبینہ اموات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ شدید بیماری کے باوجود انہیں بروقت مناسب علاج اور ضروری خدمات نہیں ملیں۔ ان اموات کی وجہ اور ممکنہ طبی یا انتظامی غفلت کے بارے میں کسی آزاد انکوائری کا حتمی نتیجہ رپورٹ نہیں ہوا، اس لیے ان دعووں کو ثابت شدہ حقیقت کے بجائے درخواست میں عائد الزام کے طور پر دیکھا جائے گا۔
عدالت سے مانگا گیا طبی آڈٹ جیلوں میں ڈاکٹروں اور دیگر عملے کی تعداد، ادویات، لیبارٹریوں، تشخیصی آلات، ہنگامی سہولتوں، ماہرین کی دستیابی، ایمبولینس سروس اور بیرونی اسپتالوں کو ریفر کرنے کے نظام کا جائزہ لے گا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ آڈٹ آزاد اور جامع ہو تاکہ ہر جیل کی حقیقی ضرورت اور بیماریوں کے بوجھ کے مطابق خامیاں سامنے آسکیں۔
درخواست گزار نے سنگین اور ہنگامی مریضوں کے لیے ایک تحریری ’’پرزن میڈیکل ریفرل پروٹوکول‘‘ تیار اور نوٹیفائی کرنے کی بھی استدعا کی۔ ان کے مطابق جہاں ممکن ہو قریبی تدریسی، ضلعی ہیڈکوارٹر یا دیگر سرکاری اسپتالوں میں محفوظ وارڈ قائم کیے جائیں اور علاج کے لیے منتقل قیدیوں کو مناسب پولیس یا جیل سکیورٹی دی جائے، تاکہ حفاظتی خدشات زندگی بچانے والے علاج میں تاخیر یا انکار کی وجہ نہ بنیں۔
درخواست میں صوبائی صحت اور جیل محکموں کے ذریعے ماہر ڈاکٹروں کا روسٹر بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کے تحت امراض قلب، گردہ، پھیپھڑے، سرطان، نفسیات، متعدی امراض اور جراحی سمیت متعلقہ شعبوں کے ڈاکٹر بڑی جیلوں کا باقاعدگی سے دورہ کریں۔ ہر سنگین مریض کے لیے تشخیص، ادویات، ٹیسٹ، ماہر کی رائے، ریفرل اور فالو اپ پر مشتمل دستاویزی علاج منصوبہ بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
مزید استدعا کی گئی ہے کہ ہر قیدی کا مرکزی طبی ریکارڈ رکھا جائے، علاج کی ہر درخواست کا وقت اور تاریخ درج ہو، اور بیماری یا مبینہ طبی غفلت سے ہونے والی ہر جیل موت کا قانون کے مطابق آزاد طبی جائزہ یا انکوائری ہو۔ درخواست گزار کے مطابق ایسا ریکارڈ وجۂ وفات، فراہم کردہ علاج، ریفرل کی تاریخ اور ممکنہ انتظامی خامی جانچنے میں مدد دے گا۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت صرف درخواست کا دائر ہونا اور اس میں مانگے گئے اقدامات ہیں۔ جیلوں کی مجموعی طبی حالت، مخصوص اموات کی ذمہ داری اور مجوزہ اصلاحات پر صوبائی حکومت، جیل و صحت محکموں کا مؤقف اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ بعد کی سماعتوں میں سامنے آئے گا۔




