پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے 27 اکتوبر 2026 سے لندن کے لیے اپنی پروازوں کی تعداد بڑھا کر روزانہ ایک پرواز کے مساوی، یعنی ہفتے میں سات، کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق قومی فضائی کمپنی کے ترجمان نے بتایا کہ نئے شیڈول میں اسلام آباد اور لندن کے درمیان ہفتے میں پانچ جبکہ لاہور اور لندن کے درمیان دو پروازیں شامل ہوں گی۔ یہ آئندہ کا آپریشنل منصوبہ ہے؛ اضافی پروازیں اعلان کے وقت شروع نہیں ہوئی تھیں اور ان کا عملی آغاز مقررہ تاریخ، ضابطہ جاتی تقاضوں اور دستیاب طیاروں سے مشروط ہوگا۔

پی آئی اے اس وقت لندن کے لیے ہفتے میں چار پروازیں چلا رہی ہے۔ نئے شیڈول کے نفاذ سے ہفتہ وار تعداد میں تین پروازوں کا اضافہ ہوگا۔ ترجمان نے اس فیصلے کو مسافروں کی بڑھتی طلب اور قومی ایئرلائن پر اعتماد سے جوڑا، تاہم جاری بیان میں روٹ کی موجودہ سیٹ بھرنے کی شرح، ٹکٹ فروخت، آمدن یا متوقع مسافروں کی تعداد فراہم نہیں کی گئی۔ اس لیے طلب سے متعلق بیان کو کمپنی کا انتظامی جائزہ سمجھا جائے گا، آزادانہ مارکیٹ ڈیٹا نہیں۔

اسلام آباد سے پانچ اور لاہور سے دو ہفتہ وار پروازوں کی تقسیم کا مقصد پاکستان کے مختلف علاقوں سے برطانیہ جانے والے مسافروں کو زیادہ دنوں اور اوقات کے انتخاب فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔ لندن روٹ پاکستانی تارکین وطن، کاروباری مسافروں، طلبہ اور خاندانوں کے لیے اہم ہے۔ اضافی فریکوئنسی سفر کی منصوبہ بندی اور کنکشن میں سہولت دے سکتی ہے، لیکن ٹکٹ کی قیمت، سامان کی اجازت، پرواز کا دورانیہ اور دستیابی ہر تاریخ، بکنگ کلاس اور آپریشنل صورت حال کے مطابق مختلف رہیں گے۔

ایئرلائن کے کسی اعلان کردہ شیڈول کو حتمی ضمانت نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ فضائی آپریشن میں ہوائی اڈوں کے سلاٹس، عملے اور جہازوں کی دستیابی، دیکھ بھال، موسمی حالات، ضابطہ جاتی اجازت اور تجارتی ضرورت اثرانداز ہوسکتی ہیں۔ مسافروں کے لیے 27 اکتوبر کے بعد کی بکنگ کرتے وقت پی آئی اے کے سرکاری شیڈول، ٹکٹ کی شرائط اور روانگی کے قریب پرواز کی تازہ حیثیت کی تصدیق اہم ہوگی۔ رپورٹ میں ان پروازوں کے طیاروں کی قسم یا مکمل ہفتہ وار اوقات جاری نہیں کیے گئے۔

برطانیہ کے روٹس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں پاکستانی ایئرلائنز کو یورپی اور برطانوی فضائی منڈیوں میں ضابطہ جاتی پابندیوں اور بحالی کے مرحلوں سے گزرنا پڑا۔ موجودہ خبر کا بنیادی نکتہ کسی نئی اجازت کا اجرا نہیں بلکہ پہلے سے جاری لندن آپریشن کی فریکوئنسی بڑھانے کا اعلان ہے۔ اسے تمام برطانیہ یا یورپ روٹس پر یکساں توسیع قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

پی آئی اے نے اس کے ساتھ فرانس میں اپنے آپریشن کے لیے مال برداری، کلیئرنگ اور فارورڈنگ ایجنٹ کی خدمات حاصل کرنے کا بین الاقوامی ٹینڈر بھی جاری کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق مجوزہ معاہدہ تین سال کے لیے ہوگا اور منتخب ایجنٹ پیرس اسٹیشن پر فضائی اور بحری کھیپوں کی ہینڈلنگ، کلیئرنس اور ترسیل سنبھالے گا۔ ٹینڈر جاری ہونا معاہدے کی تکمیل یا کسی کمپنی کے انتخاب کے برابر نہیں؛ حتمی نتیجہ بولیوں، جانچ اور خریداری کے قواعد کے بعد سامنے آئے گا۔

لندن فریکوئنسی میں اضافہ قومی ایئرلائن کے بین الاقوامی نیٹ ورک اور آمدن کے لیے ممکنہ طور پر اہم ہوسکتا ہے، مگر اس کے حقیقی اثر کا اندازہ مسافروں کی تعداد، سیٹ استعمال، وقت کی پابندی، منسوخی کی شرح، آپریشنل لاگت اور روٹ کی مالی کارکردگی سے ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت 27 اکتوبر سے ہفتے میں سات لندن پروازوں کا اعلان، ان میں اسلام آباد کی پانچ اور لاہور کی دو پروازوں کی تقسیم، اور فرانس میں کارگو ایجنٹ کے لیے الگ ٹینڈر ہے۔