پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے 27 اکتوبر 2026 سے لندن کے لیے اپنی ہفتہ وار پروازوں کی تعداد چار سے بڑھا کر سات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون اور دیگر پاکستانی ذرائع کے مطابق نئے شیڈول کے تحت قومی ایئرلائن ہر روز لندن کے لیے کم از کم ایک پرواز فراہم کرے گی، جن میں پانچ ہفتہ وار پروازیں اسلام آباد اور دو لاہور سے روانہ ہوں گی۔

پی آئی اے کے ترجمان نے پروازوں میں اضافے کو مسافروں کی طلب اور بین الاقوامی خدمات پر اعتماد میں اضافے سے منسلک کیا ہے۔ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان براہ راست فضائی رابطہ بڑی پاکستانی نژاد آبادی، خاندانی سفر، کاروبار اور تعلیمی مقاصد کے باعث اہم روٹ سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ چار ہفتہ وار پروازوں کے مقابلے میں سات پروازیں تقریباً 75 فیصد فریکوئنسی اضافہ بنتی ہیں۔

قومی ایئرلائن کے برطانیہ آپریشن کی توسیع اس کی بین الاقوامی نیٹ ورک بحالی کے تناظر میں بھی اہم ہے۔ یورپی اور برطانوی روٹس پر کئی سال کی پابندیوں کے بعد پی آئی اے نے مرحلہ وار دوبارہ آپریشن شروع کیے، اور لندن روٹ کی فریکوئنسی بڑھانا اس بحالی کے اگلے مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے۔ عملی شیڈول ہمیشہ سلاٹس، آپریشنل ضروریات اور ریگولیٹری منظوریوں کے تابع رہتا ہے، اس لیے مسافروں کے لیے حتمی تاریخ اور وقت بکنگ نظام میں دستیاب شیڈول سے تصدیق کرنا ضروری ہوگا۔

اسی دوران پی آئی اے نے فرانس میں فریٹ ہینڈلنگ، کلیئرنگ اور فارورڈنگ ایجنٹ کی خدمات کے لیے تین سالہ معاہدے کا بین الاقوامی ٹینڈر بھی جاری کیا ہے۔ ٹینڈر دستاویزات کے مطابق پیرس اسٹیشن پر فضائی اور سمندری کھیپ کی ہینڈلنگ اور کلیئرنس کے لیے ایجنٹ درکار ہے اور بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر مقرر کی گئی ہے۔

لندن پروازوں میں اضافہ مسافر آپریشن سے متعلق الگ فیصلہ ہے جبکہ پیرس فریٹ ٹینڈر کارگو اور سپلائی چین خدمات سے متعلق ہے۔ دونوں پیش رفتیں پی آئی اے کی بیرون ملک آپریشنل موجودگی بڑھانے کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ لندن سروس کی کامیابی کا اندازہ نشستوں کے استعمال، آمدن، وقت کی پابندی اور روٹ کے تجارتی نتائج سے ہوگا۔