اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری میں 26 اگست کو ہونے والی مہلک آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم کی جانب سے قائم کمیٹی نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں واقعے کو نظامی اور ادارہ جاتی ناکامیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ اس سانحے میں 14 نومولود بچے جان سے گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق متعدد حفاظتی اقدامات یا تو موجود نہیں تھے، ناکافی تھے، بروقت فعال نہیں کیے گئے یا ان کی آزادانہ جانچ کبھی نہیں ہوئی تھی۔
52 نکاتی تحقیقات پر مبنی رپورٹ میں کہا گیا کہ پمز اور اس کی سینئر انتظامیہ پر بنیادی ادارہ جاتی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ معلوم خطرات، سابقہ تنبیہات اور مقررہ ذمہ داریوں کو مؤثر حفاظتی نظام میں تبدیل نہیں کیا گیا۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ انفرادی ذمہ داری ہر شخص کے خلاف دستیاب شواہد کی قوت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں آتش گیر مواد اور آکسیجن کی موجودگی کو آگ اور دھوئیں کی شدت بڑھانے والے عوامل میں شمار کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ نرسری سے نومولود بچوں کے انخلا کے لیے باضابطہ طور پر منظور شدہ، عملے کو سکھائے گئے اور باقاعدگی سے مشق کیے جانے والے معیاری طریقہ کار کا ریکارڈ نہیں ملا۔ رپورٹ کے مطابق آگ تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر نمایاں ہوئی، بیرونی اداروں کو 6 بج کر 54 منٹ پر اطلاع دی گئی، ایک منٹ بعد امدادی ٹیم روانہ ہوئی اور 7 بج کر ایک منٹ پر عملی معاونت پہنچی۔ کمیٹی نے آگ کے نمایاں ہونے اور بیرونی مدد فعال ہونے کے درمیان وقفے کو اہم تشویش قرار دیا۔
کمیٹی نے کہا کہ دستیاب ریکارڈ کسی نامزد فرد کے خلاف فوجداری جرم کا حتمی ثبوت قائم نہیں کرتا، تاہم بعض پہلو مزید فوجداری تحقیقات کے متقاضی ہیں۔ ان میں ایئرکنڈیشننگ یونٹ نمبر 2 کی برقی تنصیب یا دیکھ بھال میں ممکنہ قابلِ مواخذہ غفلت، لازمی ہنگامی راستے میں رکاوٹ، مخصوص سابقہ تنبیہات کے باوجود اقدام نہ کرنا اور بیرونی مدد طلب کرنے میں ممکنہ قابلِ مواخذہ تاخیر شامل ہیں۔ یہ نکات تحقیقات کے دائرے میں ہیں اور انہیں حتمی فوجداری ذمہ داری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
رپورٹ نے فوری فائر سیفٹی اقدامات، جامع الیکٹریکل سیفٹی آڈٹ، مؤثر آگ کی نشاندہی اور الارم نظام، آگ بجھانے کے انتظامات، انخلا کے طریقہ کار اور حقیقت پسندانہ مشقوں کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ ہر شناخت شدہ خامی کے لیے ذمہ دار افسر، تکمیل کی مدت، مطلوبہ وسائل، عبوری حفاظتی اقدامات اور آزادانہ تصدیق کا واضح نظام ہونا چاہیے۔ سفارشات میں میرٹ پر پیشہ ورانہ ہسپتال انتظامیہ، مضبوط ریگولیٹری نگرانی اور مؤثر تعمیل کا طریقہ کار بھی شامل ہے۔
