اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں اصلاحات، فائر سیفٹی نظام کی بہتری اور انکوائری رپورٹ میں تجویز کردہ قلیل مدتی اقدامات پر تین ماہ کے اندر عمل درآمد کی ہدایت کی ہے۔ 16 ستمبر کو ہونے والے جائزہ اجلاس میں پمز سے متعلق انکوائری رپورٹ اور وزارتِ قومی صحت کی جانب سے کیے گئے کارکردگی آڈٹ کا جائزہ لیا گیا۔

سرکاری تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ہسپتال کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں اور فائر سیفٹی کے نظام کے بارے میں پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ سے معاونت اور تجاویز بھی لی جائیں۔ انہوں نے عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ میں شامل سفارشات پر غور اور ان کے قابلِ عمل نکات کے نفاذ پر بھی زور دیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پمز کے کارکردگی آڈٹ میں جانچے گئے اشاریوں پر مجموعی تعمیل 39.7 فیصد رہی، جبکہ قابلِ قبول ہدف 90 فیصد بتایا گیا۔ حکام کے مطابق انکوائری رپورٹ کی روشنی میں 37 اقدامات پر فوری عمل درآمد کا عمل شروع کیا جا رہا ہے اور ہسپتال کی بہتری کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل مدت کے اقدامات الگ الگ مرتب کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مجوزہ روڈ میپ میں مریضوں کو ادویات اور سہولیات بلا معاوضہ فراہم کرنے کے اقدامات بھی شامل کیے جائیں اور انتظامی و طبی بہتری کے لیے اچھی پیشہ ورانہ شہرت رکھنے والی افرادی قوت کی تعیناتی پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے پمز کے لیے طویل مدتی جامع ایکشن پلان تیار کرنے کا بھی حکم دیا۔

اجلاس میں پولی کلینک ہسپتال کے آڈٹ کی ہدایت بھی دی گئی تاکہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی اور ادارے کی ازسرنو بہتری کے لیے عملی منصوبہ بنایا جا سکے۔ وزیراعظم نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کو وفاقی دارالحکومت کے سرکاری اور نجی ہسپتالوں سمیت عمارتوں میں فائر سیفٹی آڈٹ اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

یہ اقدامات پمز کے نرسری وارڈ میں گزشتہ ماہ ہونے والی مہلک آتش زدگی کے بعد سامنے آئے ہیں۔ انکوائری رپورٹ کے حوالے سے Geo News نے بتایا کہ آگ کا ممکنہ آغاز ایئرکنڈیشنر کی سپلائی کیبل میں برقی خرابی سے ہوا، جبکہ رپورٹ نے حادثے کی شدت میں نظامی اور ادارہ جاتی ناکامیوں کی نشاندہی کی۔ یہ انکوائری کی رپورٹ کے نتائج ہیں؛ انہیں کسی فرد کے خلاف عدالتی طور پر ثابت شدہ ذمہ داری کے طور پر نہیں لیا گیا۔