پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے گائنی وارڈ میں آتشزدگی کے بعد وفاقی دارالحکومت کی اہم سرکاری عمارتوں میں ہنگامی تیاری جانچنے اور عملے کو تربیت دینے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں خصوصی فائر سیفٹی موک ڈرل کی، جبکہ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے افسران اور ملازمین کے لیے ایک روزہ حفاظتی و ہنگامی تربیتی سیشن منعقد کیا۔
رپورٹ میں پمز آتشزدگی میں 14 نومولود بچوں کی جانیں جانے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ واقعے سے متعلق وزیراعظم کو پیش کی گئی عبوری رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اسپتال میں آگ یا دوسری ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تفصیلی معیاری عملی طریقۂ کار اور باقاعدہ تربیت موجود نہیں تھی۔ عبوری رپورٹ حتمی انکوائری یا انفرادی ذمہ داری کے فیصلے کے برابر نہیں؛ آتشزدگی کی مکمل وجوہ، کسی ممکنہ غفلت اور ذمہ دار اہلکاروں کا تعین متعلقہ تحقیقاتی و انتظامی عمل سے ہوگا۔
پارلیمنٹ ہاؤس کی مشق میں عمارت کے اندر فرضی آتشزدگی کی صورت حال پیدا کرکے انخلا، بروقت اطلاع، متعلقہ اداروں سے رابطے، امدادی کارروائی اور دیگر ضروری حفاظتی طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے افسران اور اہلکاروں نے مشق میں حصہ لیا۔ حکام کے مطابق مقصد موجودہ انتظامات کی آزمائش، کمزور پہلوؤں کی شناخت اور حقیقی ہنگامی حالت میں اداروں کے درمیان ردعمل بہتر بنانا تھا۔
وفاقی آئینی عدالت کے تربیتی سیشن میں سی ڈی اے کی کیپیٹل ایمرجنسی سروس کے ڈائریکٹر محمد احسن نے اسلام آباد کے ایمرجنسی رسپانس نظام اور مربوط کارروائی کے طریقے بیان کیے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر طارق مسعود نے آگ کی مختلف اقسام، ہر قسم کے لیے موزوں بجھانے کے طریقے، ذاتی حفاظت، محفوظ انخلا، ہنگامی تیاری اور متبادل منصوبہ بندی پر بریفنگ دی۔ شرکا کو فائر ایکسٹنگوشر درست اور محفوظ انداز میں استعمال کرنے کی عملی تربیت بھی دی گئی۔
جسٹس علی باقر نجفی اور رجسٹرار محمد حفیظ اللہ خان سیشن میں موجود تھے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ تربیت کا مقصد موجودہ حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینا اور مزید بہتری کے اقدامات کی نشاندہی کرنا ہے۔ ایک روزہ تربیت بنیادی آگاہی اور عملی مشق مہیا کرسکتی ہے، لیکن مستقل تیاری کے لیے باقاعدہ وقفوں سے مشق، آلات کا معائنہ، ہنگامی راستوں کی دستیابی، الارم نظام، ذمہ دار ٹیموں کی نامزدگی اور ریکارڈ شدہ اصلاحی کارروائی ضروری ہوگی۔
پمز کے واقعے نے اسپتالوں کے ساتھ تمام زیادہ استعمال ہونے والی سرکاری عمارتوں میں آگ سے حفاظت کے سوال کو نمایاں کیا ہے۔ طبی مراکز میں نومولود، انتہائی نگہداشت کے مریض اور حرکت سے محروم افراد خود انخلا نہیں کرسکتے، اس لیے وہاں عملے کی ذمہ داری، آکسیجن و برقی نظام، دھواں نکالنے، متبادل بجلی اور مریضوں کی مرحلہ وار منتقلی کے منصوبے عام دفتر سے مختلف اور زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں۔ موجودہ مشقیں اہم ردعمل ہیں، مگر پمز میں خود اصلاحات کی مکمل تفصیل اس خبر میں جاری نہیں کی گئی۔
حفاظتی مشق کی افادیت کا تعین صرف انعقاد سے نہیں بلکہ اس کے بعد سامنے آنے والی خامیوں، مقررہ ذمہ داروں، اصلاح کی مدت اور دوبارہ آزمائش سے ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس اور وفاقی آئینی عدالت کے سیشن میں کن مخصوص خامیوں کی نشاندہی ہوئی اور انہیں کب دور کیا جائے گا، اس بارے میں رپورٹ میں تفصیلی نتائج شامل نہیں تھے۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت پارلیمنٹ ہاؤس میں سی ڈی اے کی عملی فائر ڈرل، وفاقی آئینی عدالت میں حفاظتی تربیت اور پمز کی عبوری رپورٹ کے بعد ہنگامی تیاری پر بڑھتی توجہ ہے۔ پمز آتشزدگی کی حتمی ذمہ داری یا تمام وفاقی عمارتوں کی حفاظتی تعمیل کے بارے میں کوئی جامع نتیجہ ان دو مشقوں سے اخذ نہیں کیا جاسکتا۔




