پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے گائنی وارڈ میں آتشزدگی سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد اسلام آباد کی اہم سرکاری عمارتوں میں آگ سے بچاؤ اور ہنگامی انخلا کی عملی مشقیں شروع کردی گئی ہیں۔ ڈان کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں فرضی آتشزدگی کی مشق کی، جبکہ وفاقی آئینی عدالت میں افسران اور عملے کے لیے فائر سیفٹی و ایمرجنسی رسپانس کی تربیتی نشست منعقد ہوئی۔ یہ سرگرمیاں سانحے کے بعد ادارہ جاتی تیاری بہتر بنانے کی کوشش ہیں؛ ان سے پمز واقعے کی ذمہ داری یا قانونی نتیجہ طے نہیں ہوتا۔
رپورٹ کے مطابق پمز آتشزدگی سے متعلق ایک عبوری رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کی گئی تھی۔ اس ابتدائی دستاویز میں بتایا گیا کہ ہسپتال کے پاس آگ یا دوسری ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تفصیلی معیاری طریقۂ کار اور مناسب تربیت موجود نہیں تھی۔ چونکہ رپورٹ عبوری ہے، اس لیے اسے مکمل تحقیق، حتمی انکوائری یا کسی فرد و ادارے کے خلاف قطعی ذمہ داری کا فیصلہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ آگ لگنے کی اصل وجہ، حفاظتی نظام کی تکنیکی حالت اور ہر متعلقہ اہلکار کا کردار حتمی جانچ اور دستیاب شواہد سے طے ہوگا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں سی ڈی اے کی مشق کے دوران عمارت کے اندر فرضی آگ کی صورت حال پیدا کی گئی۔ حکام نے انخلا کے طریقے، متعلقہ ایمرجنسی اداروں کو بروقت اطلاع، ریسکیو کارروائی، عملے کے باہمی رابطے اور موجود حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔ پارلیمنٹ کے افسران اور ملازمین نے مشق میں حصہ لیا۔ ایسی مشقوں کا مقصد کمزوریاں واقعہ پیش آنے سے پہلے سامنے لانا اور افراد کو ان کی ذمہ داری سمجھانا ہوتا ہے، تاہم موجودہ خبر میں مشق کے نتائج، انخلا کا وقت یا شناخت ہونے والی خامیوں کی مکمل فہرست جاری نہیں کی گئی۔
وفاقی آئینی عدالت میں منعقدہ تربیتی نشست میں جسٹس علی باقر نجفی، رجسٹرار محمد حفیظ اللہ خان اور عدالتی عملے نے شرکت کی۔ سی ڈی اے کے کیپیٹل ایمرجنسی سروس کے ڈائریکٹر محمد احسن نے اسلام آباد کے ہنگامی ردعمل کے نظام اور مختلف اداروں کے درمیان رابطے کے طریقے پر بریفنگ دی۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر طارق مسعود نے آگ کی اقسام، ہر قسم کے لیے مناسب بجھانے کے طریقے، ذاتی حفاظت، محفوظ انخلا اور ہنگامی منصوبہ بندی سے متعلق رہنمائی فراہم کی۔
شرکا کو آگ بجھانے والے آلات کے درست اور محفوظ استعمال کی عملی تربیت بھی دی گئی۔ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ تربیت کا مقصد موجودہ حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینا اور ان میں مزید بہتری کے اقدامات شناخت کرنا ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ عدالتی عمارت کا الگ فائر سیفٹی آڈٹ مکمل ہوا، تمام آلات کی تکنیکی جانچ ہوئی یا کسی نئی تعمیراتی تبدیلی کی منظوری دی گئی۔ اس لیے تربیتی نشست کو جامع حفاظتی سرٹیفکیشن کے برابر نہیں سمجھا جاسکتا۔
پمز کا سانحہ خصوصاً اس لیے سنگین ہے کہ ہسپتالوں میں نومولود، زیر علاج مریض اور محدود نقل و حرکت رکھنے والے افراد فوری انخلا نہیں کرسکتے۔ ایسے اداروں میں آگ کی بروقت نشاندہی، الارم، دھواں روکنے کے انتظامات، قابل استعمال راستے، تربیت یافتہ عملہ، بجلی اور طبی گیسوں کی حفاظت اور باقاعدہ مشقیں ایک دوسرے سے منسلک ضرورتیں ہیں۔ تاہم کسی مخصوص نظام کی خرابی کو حتمی طور پر پمز سانحے کی وجہ قرار دینے کے لیے مکمل تحقیق ضروری ہے۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد عبوری رپورٹ کا سامنے آنا، پارلیمنٹ ہاؤس میں سی ڈی اے کی فرضی فائر ڈرل اور وفاقی آئینی عدالت میں عملی تربیتی نشست ہے۔ اگلا اہم مرحلہ پمز واقعے کی حتمی انکوائری، ذمہ داری کا شفاف تعین اور ہسپتالوں سمیت تمام حساس سرکاری عمارتوں میں حفاظتی خامیوں کے قابلِ پیمائش اصلاحی اقدامات ہوں گے۔




