اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے وفاقی دارالحکومت میں پلاسٹک آلودگی کم کرنے اور دوبارہ استعمال کے قابل متبادل اشیا کی حوصلہ افزائی کے لیے ’پلاسٹک فری اسلام آباد‘ مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سی ڈی اے کے مطابق اس اقدام کا مقصد شہر کو صاف، سبز اور زیادہ پائیدار بنانا اور شہریوں و کاروباری اداروں میں سنگل یوز پلاسٹک کے ماحولیاتی اثرات سے متعلق آگاہی بڑھانا ہے۔

سی ڈی اے کے بیان کے مطابق متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز اپنے اپنے علاقوں میں مہم کی نگرانی کریں گے۔ خصوصی توجہ مارکیٹوں، تجارتی مراکز، فوڈ آؤٹ لیٹس، تعلیمی اداروں، پارکس، تفریحی مقامات اور دیگر عوامی جگہوں پر دی جائے گی، جہاں پلاسٹک بیگز اور ایک مرتبہ استعمال ہونے والی پیکیجنگ بڑی مقدار میں استعمال ہو سکتی ہے۔

شہری انتظامیہ نے تاجروں اور کاروباری برادری سے کہا ہے کہ وہ سنگل یوز پلاسٹک بیگز کی تقسیم کم کریں اور صارفین کو دوبارہ استعمال کے قابل یا ماحول دوست متبادل فراہم کرنے میں تعاون کریں۔ شہریوں کو بھی اپنے ساتھ قابلِ استعمال بیگ رکھنے، غیر ضروری پلاسٹک پیکیجنگ سے گریز اور کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کی ترغیب دی گئی ہے۔

اسلام آباد میں پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پہلے سے پابندیاں موجود ہیں، تاہم ڈان کی رپورٹ کے مطابق شہر کے مختلف حصوں میں پلاسٹک بیگز کا استعمال اب بھی جاری ہے۔ اس پس منظر میں نئی مہم کا اہم امتحان محض آگاہی نہیں بلکہ قواعد پر مستقل عمل درآمد، متبادل اشیا کی دستیابی اور کاروباری اداروں و صارفین کے عملی تعاون کی صورت میں ہوگا۔

سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ پلاسٹک فضلے میں کمی سے سڑکوں، بازاروں، پارکس، عوامی مقامات اور نکاسی آب کے نظام کو صاف رکھنے میں مدد مل سکتی ہے اور شہری ویسٹ مینجمنٹ پر دباؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔ پلاسٹک کے تھیلے اور دیگر ہلکا فضلہ نالوں اور کھلے مقامات میں جمع ہونے کی وجہ سے شہری صفائی اور نکاسی کے مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔

مہم کے اعلان میں کسی نئے جرمانے، ضبطی کے الگ نظام یا نفاذ کے مقداری اہداف کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اس لیے اسے موجودہ پابندیوں اور ماحولیاتی اہداف کے نفاذ کو مضبوط بنانے کی شہری انتظامیہ کی مہم کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہے۔ اس کی کامیابی کا جائزہ آئندہ نگرانی، خلاف ورزیوں میں کمی اور سنگل یوز پلاسٹک کے حقیقی استعمال سے متعلق قابل پیمائش نتائج کی بنیاد پر کیا جا سکے گا۔