اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے لیے نائب صدر ینگ منگ یانگ نے کراچی سے پشاور تک مین لائن ون، یا ایم ایل ون، ریلوے منصوبے کی جلد سنگِ بنیاد رکھنے کی ضرورت پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق ملاقات 4 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں ہوئی اور ریلوے لائن کی جدید کاری گفتگو کا مرکزی موضوع رہی۔
سرکاری بیان میں ایم ایل ون کو قومی سطح کا اہم بنیادی ڈھانچہ قرار دیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس راہداری کی اپ گریڈیشن سے مال برداری کے نظام کو جدید بنانے، علاقائی تجارتی رابطہ بہتر کرنے اور بڑے صنعتی منصوبوں کو سہارا دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ ملاقات میں منصوبے کے جلد عملی آغاز پر زور دیا گیا، تاہم جاری معلومات میں کسی نئی حتمی تاریخ یا اسی روز تعمیر شروع ہونے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ایم ایل ون منصوبہ پاکستان ریلویز کی کراچی۔پشاور مرکزی لائن کی مرحلہ وار بہتری سے متعلق ہے اور اسے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے بڑے منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ دستیاب سرکاری و صحافتی تفصیلات کے مطابق منصوبے کی مجموعی تخمینی مالیت تقریباً 10 ارب ڈالر ہے۔ پاکستان کراچی سے روہڑی کے حصے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 2 ارب ڈالر کی مالی معاونت حاصل کر چکا ہے، جبکہ حکومت چینی، پاکستانی اور کثیرطرفہ ذرائع کو مشترکہ مالی ڈھانچے کا حصہ قرار دیتی رہی ہے۔
جولائی 2026 میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا تھا کہ پہلے مرحلے کی سنگِ بنیاد 2027 کے آغاز میں رکھنے کا ارادہ ہے۔ وزیراعظم اور اے ڈی بی نائب صدر کی تازہ ملاقات اس منصوبہ بندی کو آگے بڑھانے کی سیاسی اور ادارہ جاتی کوشش ہے، لیکن تعمیراتی شیڈول، ٹھیکوں اور تمام مراحل کی مالی بندش الگ عملی فیصلوں سے مشروط رہے گی۔ اس لیے ملاقات کو منصوبے کی تکمیل یا پورے 10 ارب ڈالر کی نئی منظوری سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
دونوں فریقوں نے ایشیائی ترقیاتی بینک اور پاکستان کی نئی کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی 2026 تا 2030 کا بھی جائزہ لیا۔ اے ڈی بی نے مارچ میں پانچ سالہ حکمتِ عملی منظور کی تھی، جس کے تحت پاکستان کے لیے تقریباً 10 ارب ڈالر کی متوقع مالی معاونت کا خاکہ دیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار اور شمولیتی ترقی کی حمایت بتایا گیا ہے۔
وزیراعظم نے اے ڈی بی کے ساتھ شہری بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ اور عوامی خدمات کے منصوبوں میں تعاون کو سراہا۔ ملاقات میں نجی شعبے، توانائی و غذائی تحفظ، برآمدی مسابقت، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ممکنہ شراکت داری پر بھی گفتگو ہوئی۔ سرکاری بیان کے مطابق انتظامی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے خصوصی عمل درآمد ٹاسک فورسز استعمال کی جا رہی ہیں۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی کی ترجیحات کو قابلِ پیمائش منصوبوں میں بدلنے پر اتفاق ظاہر کیا گیا۔ ایم ایل ون کے معاملے میں اگلا اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ اعلان کردہ مالی معاونت، تکنیکی تیاری، زمین و آبادکاری سے متعلق تقاضوں اور تعمیراتی پیکجز کو واضح وقت بندی کے ساتھ عملی شکل دی جائے۔




