وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت ہاؤسنگ فنانس کی منظور شدہ رقم 313 ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق گزشتہ دو ماہ میں مالی منظوریوں میں 117 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جون سے اب تک 53 ہزار 100 سے زیادہ ہاؤسنگ قرضوں کی منظوری دی گئی ہے۔
خرم شہزاد نے بتایا کہ پروگرام کے تحت 45 ارب روپے سے زیادہ رقم عملی طور پر تقسیم بھی کی جا چکی ہے، جس میں دو ماہ کے دوران 120 فیصد اضافہ بتایا گیا۔ منظور شدہ قرضوں کی تعداد میں 111 فیصد اضافے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار حکومتی مشیر کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔
اپنا گھر پروگرام کم اور متوسط آمدن والے گھرانوں کے لیے نسبتاً قابل رسائی ہاؤسنگ فنانس فراہم کرنے کی حکومتی کوشش ہے۔ پاکستان میں بلند جائیداد قیمتیں، رسمی رہن مارکیٹ کا محدود حجم اور طویل مدتی قرض کی لاگت گھر خریدنے یا تعمیر کرنے میں بڑی رکاوٹیں رہی ہیں۔
ہاؤسنگ فنانس میں اضافہ تعمیرات، سیمنٹ، اسٹیل، فرنیچر اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں معاشی سرگرمی کو بھی متحرک کر سکتا ہے۔ دوسری طرف بڑے پیمانے پر قرض پروگرام کے لیے قرض لینے والوں کی ادائیگی کی صلاحیت، بینکوں کے کریڈٹ معیار اور سبسڈی یا ضمانتوں کی مالی لاگت کا محتاط انتظام ضروری ہوتا ہے۔
313 ارب روپے کی منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ پوری رقم قرض لینے والوں کو ادا ہو چکی ہے؛ سرکاری اعداد کے مطابق عملی تقسیم 45 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ پروگرام کی حقیقی پیش رفت کا جائزہ تقسیم شدہ قرضوں، مکمل ہونے والے گھروں، قرض کی واپسی اور مستفید خاندانوں کی آمدن کی سطح سے ہوگا۔ موجودہ اعداد بہرحال ہاؤسنگ فنانس درخواستوں اور منظوریوں میں تیز رفتار اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔




