اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی لائیو اسٹاک اور گوشت کی برآمدات بڑھانے کے لیے خصوصی ایکسپورٹ فارمز قائم کرنے، اعلیٰ نسل اور زیادہ پیداوار والے مویشی درآمد کرنے اور ان فارمز کے لیے مویشیوں کی درآمد کو ڈیوٹی سے مستثنیٰ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلے لائیو اسٹاک شعبے میں جاری اصلاحات کے جائزہ اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت وزیراعظم نے کی۔

حکومت کے مطابق خصوصی فارمز میں درآمد شدہ اعلیٰ نسل کے مویشی پالے جائیں گے اور بعد میں انہیں برآمدی منڈیوں کے لیے تیار کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے اس مقصد کے لیے جدید جانوروں کی ٹیگنگ کا نظام متعارف کرانے کی ہدایت بھی کی تاکہ فارم پر پالے جانے والے جانوروں کی شناخت، نگرانی اور برآمدی استعمال کی تصدیق ممکن ہو سکے۔

اجلاس میں لائیو اسٹاک شعبے کو جدید اور کارپوریٹ خطوط پر منظم کرنے کی منظوری دی گئی، جبکہ اصلاحات کی تیاری اور عمل درآمد میں نجی شعبے کے ماہرین کی خدمات لینے پر بھی زور دیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ زرعی معیشت میں لائیو اسٹاک کا حصہ بہت بڑا ہے اور اس میں برآمدات بڑھانے کی نمایاں گنجائش موجود ہے۔

وزیراعظم نے منہ کھر کی بیماری کے خاتمے کے لیے واضح اہداف کے ساتھ دو ہفتوں میں ایکشن پلان پیش کرنے کی ہدایت کی۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر جانوروں کی بیماریوں کی روک تھام پر کام کرنے کا کہا گیا ہے۔ ملک بھر کے سلاٹر ہاؤسز کی بین الاقوامی سرٹیفکیشن اور تیسرے فریق سے تصدیق بھی منصوبے کا حصہ ہے تاکہ برآمدی مصنوعات عالمی صحت اور معیار کے تقاضوں کے مطابق ہوں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں تقریباً 24 کروڑ 50 لاکھ مویشی ہیں جن کی مجموعی مالیت کا تخمینہ 5.5 ٹریلین روپے لگایا گیا ہے۔ لائیو اسٹاک کا قومی معیشت میں حصہ 14.97 فیصد اور زرعی معیشت میں 63.6 فیصد بتایا گیا، جبکہ تقریباً 80 لاکھ دیہی گھرانے اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں گوشت کی برآمدات تقریباً 53 کروڑ ڈالر رہیں اور خلیجی ممالک بڑی منڈیوں میں شامل تھے۔

حکومت نے ویلیو چین، کولڈ چین، فیڈ لاٹ فارمنگ، ڈی بوننگ، ویلیو ایڈڈ مصنوعات اور برآمدی انفراسٹرکچر بہتر بنانے پر بھی توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کو گوشت، زندہ مویشی اور متعلقہ مصنوعات کے لیے واضح برآمدی اہداف تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔