اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ حکومت کے فیول ریلیف پروگرام کے تحت مستحق شہریوں کو مقررہ سہولت فراہم نہ کرنے والے پٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کی جائے اور قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر ان کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔ وزیراعظم نے پروگرام کے نفاذ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ سبسڈی کا فائدہ ان شہریوں تک پہنچنا چاہیے جن کے لیے یہ اسکیم بنائی گئی ہے۔

حکومتی بریفنگ کے مطابق رجسٹریشن اور سبسڈی کی فراہمی کے طریقہ کار میں سادگی کے بعد پروگرام میں شامل ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ اہل صارفین کو پٹرول پمپس پر غیر ضروری رکاوٹوں یا انکار کا سامنا نہ ہو اور شکایات کی صورت میں فوری کارروائی کی جائے۔

فیول ریلیف پروگرام کا مقصد کم آمدنی والے اور اہل شہریوں پر ایندھن کی قیمتوں کے بوجھ کو محدود کرنا ہے۔ اس نوعیت کی سبسڈی میں صارف کی اہلیت، شناخت اور ادائیگی کے نظام کے ساتھ پٹرول پمپ آپریٹرز کا تعاون بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لیے وزیراعظم نے نفاذ کے مرحلے کو پروگرام کی کامیابی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے نگرانی سخت کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں حکام کو یہ بھی کہا گیا کہ رجسٹریشن کا عمل آسان اور قابل رسائی رکھا جائے تاکہ مستحق افراد تکنیکی یا انتظامی پیچیدگیوں کی وجہ سے پروگرام سے باہر نہ رہیں۔ حکومت کے مطابق طریقہ کار میں حالیہ تبدیلیوں کے نتیجے میں زیادہ شہریوں نے رجسٹریشن کرائی ہے، تاہم پروگرام کے حقیقی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سبسڈی مقررہ صارف تک بروقت اور شفاف انداز میں پہنچتی ہے۔

وزیراعظم کی ہدایت انتظامی نوعیت کی ہے اور کسی مخصوص پٹرول پمپ کا لائسنس منسوخ ہونے کی تفصیل اس اعلان میں نہیں دی گئی۔ متعلقہ ریگولیٹری اور انتظامی اداروں کو قواعد کے مطابق شکایات اور عدم تعاون کے معاملات دیکھنا ہوں گے۔ حکومت نے پروگرام کی نگرانی جاری رکھنے اور مستحقین کے لیے سہولت بہتر بنانے کا عندیہ دیا ہے۔