اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات طے کرنے کے لیے دونوں جانب کے دفاتر کے درمیان مشاورت شروع ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کو باضابطہ مشاورت کی دعوت دینے کے بعد سامنے آئی ہے۔
ڈان کے مطابق اچکزئی نے جمعے کو ایک بیان میں بتایا کہ وزیراعظم کے خط کے بعد قائد حزب اختلاف اور وزیراعظم کے دفاتر ملاقات کا وقت طے کرنے کے لیے رابطے میں ہیں۔ آئین کے تحت چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے عمل میں وزیراعظم اور قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف کے درمیان مشاورت بنیادی مرحلہ ہے۔
موجودہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی پانچ سالہ مدت 26 جنوری 2025 کو ختم ہو چکی ہے۔ سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی مدت بھی اسی تاریخ کو مکمل ہوئی تھی۔ آئین کے آرٹیکل 215 میں 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے شامل کی گئی شق کے تحت یہ عہدیدار اپنے جانشینوں کی تقرری تک عہدوں پر کام جاری رکھ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اچکزئی نے اگست میں بھی وزیراعظم کو خط لکھ کر نئے چیف الیکشن کمشنر اور سندھ و بلوچستان کے دو ارکان کی فوری تقرری کا مطالبہ کیا تھا۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی استحکام کے لیے رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سی ای سی کی تقرری کو مذاکرات کے آغاز کا ممکنہ نقطہ قرار دے چکے ہیں۔
اسی روز تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں کا اجلاس بھی ہوا جس میں 27 ستمبر کے مجوزہ احتجاج اور دیگر سیاسی امور زیر بحث آئے۔ بیان کے مطابق اجلاس میں اچکزئی، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان، سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور اسد قیصر سمیت دیگر رہنما شریک تھے۔
چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا معاملہ طویل عرصے سے سیاسی تنازع کا حصہ ہے۔ اپوزیشن نے موجودہ الیکشن کمیشن کے بعض فیصلوں پر اعتراضات کیے ہیں، تاہم یہ سیاسی الزامات ہیں اور انہیں کسی عدالتی حتمی نتیجے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ موجودہ پیش رفت کا فوری نتیجہ صرف یہ ہے کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی لازمی مشاورت کے لیے ملاقات طے کرنے کا عمل شروع ہوا ہے؛ کسی نئے چیف الیکشن کمشنر کے نام پر اتفاق یا تقرری ابھی نہیں ہوئی۔




