اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے سرکاری اور نجی میڈیکل و ڈینٹل اداروں کو ہدایت کی ہے کہ موجودہ تعلیمی سیشن میں افغان شہریوں کو نئے داخلے یا پلیسمنٹ نہ دی جائے۔ یکم ستمبر 2026 کے پی ایم ڈی سی مراسلے کے مطابق پہلے سے میڈیکل یا ڈینٹل پروگراموں میں زیر تعلیم افغان طلبہ کے بارے میں بھی اداروں کو واپسی سے متعلق انتظامی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

کونسل کے مراسلے میں تعلیمی اداروں سے کہا گیا ہے کہ متعلقہ طلبہ کے لیے ضروری این او سیز اور دیگر انتظامی دستاویزات جاری کرکے ان کی روانگی میں سہولت فراہم کی جائے۔ یہ پالیسی ملک بھر کے سرکاری اور نجی میڈیکل اداروں کو بھیجی گئی ہے اور جامعات نے افغان طلبہ کی تعداد اور ان کے تعلیمی سال سے متعلق تفصیلات جمع کرنا شروع کردی ہیں۔

وزارت صحت کے ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ افغان طلبہ کو واپس بھیجنے کا اصولی فیصلہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے پس منظر میں کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق میڈیکل یونیورسٹیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ماتحت کالجوں میں زیر تعلیم افغان شہریوں کا ریکارڈ فراہم کریں تاکہ مکمل فہرستیں متعلقہ حکام کے ساتھ شیئر کی جاسکیں۔ عہدیدار نے واضح کیا کہ یہ ہدایت افغان طلبہ سے متعلق ہے، دیگر غیر ملکی طلبہ پر اس کا اطلاق نہیں بتایا گیا۔

دوسری جانب دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے منصوبے کے تحت کسی بھی غیر ملکی شہری کا درست ویزا اور پاسپورٹ کے بغیر پاکستان میں قیام غیر قانونی ہے اور ایسے فرد کو ملک بدری کا سامنا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ افغان طلبہ کی ویزا توسیع کی درخواستیں موجودہ پالیسی، قواعد اور ضوابط کے مطابق پراسیس کی جا رہی ہیں۔

اس صورتحال میں پی ایم ڈی سی کی تعلیمی ہدایت اور امیگریشن یا ویزا کی انفرادی قانونی حیثیت کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ رپورٹ میں تمام افغان طلبہ کی فوری ملک بدری کا کوئی یکساں عدالتی حکم بیان نہیں کیا گیا؛ تعلیمی اداروں کو کونسل کی پالیسی کے تحت انتظامی اقدامات کرنے کا کہا گیا ہے جبکہ ویزا معاملات متعلقہ حکام کے قواعد کے مطابق دیکھے جائیں گے۔

ایک میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے ہدایات موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں افغان طلبہ موجود ہیں اور ادارے ان کی تفصیلات اکٹھی کر رہے ہیں۔ پالیسی کے عملی نفاذ اور متاثرہ طلبہ کے آئندہ تعلیمی انتظامات سے متعلق مزید وضاحت متعلقہ سرکاری اداروں کی آئندہ ہدایات سے سامنے آئے گی۔