اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے بیرون ملک میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند پاکستانی طلبہ کے لیے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ، یعنی ایم ڈی کیٹ، پاس کرنے کی لازمی شرط ختم کر دی ہے۔ پی ایم ڈی سی کی 5 اکتوبر کو جاری کردہ عوامی اطلاع اور ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ کونسل کے 14 ستمبر کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔
پی ایم ڈی سی کے مطابق اب پاکستانی طلبہ کو غیر ملکی میڈیکل یا ڈینٹل اداروں میں داخلہ لینے سے پہلے ایم ڈی کیٹ پاس کرنا لازمی نہیں ہوگا۔ کونسل نے اس تبدیلی کی تفصیلی وجوہات عوامی نوٹس میں بیان نہیں کیں، تاہم پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج نے ڈان کو بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ بیرون ملک تعلیم کے لیے جانے والے طلبہ کو ایم ڈی کیٹ پاس کرنے کا پابند نہ بنایا جائے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز اس معاملے پر پہلے بھی بحث کر چکی تھی۔ کمیٹی کے ارکان نے اس پالیسی کے قانونی جواز اور عملی افادیت پر سوال اٹھائے تھے اور یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ کم معیار کے غیر ملکی میڈیکل اداروں سے متعلق خدشات کا بہتر حل ایسے اداروں کی واضح فہرست اور مؤثر نگرانی ہے، نہ کہ ہر طالب علم پر ایک ہی داخلہ ٹیسٹ کی شرط۔
نئی رعایت کا یہ مطلب نہیں کہ بیرون ملک سے میڈیکل تعلیم حاصل کرنے والے گریجویٹس پاکستان میں براہ راست پریکٹس شروع کر سکیں گے۔ پی ایم ڈی سی کے ایک عہدیدار کے مطابق بیرون ملک تعلیم کے دوران پاکستان کی کسی یونیورسٹی میں منتقل ہونے کے خواہش مند طلبہ کو نیشنل ایگزامینیشن بورڈ کی جانچ سے گزرنا ہوگا۔ اسی طرح غیر ملکی یونیورسٹی سے میڈیکل یا ڈینٹل ڈگری مکمل کرنے کے بعد پاکستان میں پریکٹس کے لیے متعلقہ رجسٹریشن امتحان اور دیگر ضابطہ جاتی تقاضے برقرار رہیں گے۔
پی ایم ڈی سی کی ویب سائٹ پر 5 اکتوبر کو اپ ڈیٹ ہونے والی عوامی اطلاع نے اس پالیسی تبدیلی کی سرکاری تصدیق کر دی ہے۔ طلبہ اور والدین کے لیے اہم نکتہ یہ ہے کہ ایم ڈی کیٹ کی شرط ختم ہونے کے باوجود غیر ملکی ادارے کی منظوری، ڈگری کی شناخت، رجسٹریشن اور پاکستان واپسی کے بعد لائسنس کے تقاضے الگ معاملات ہیں۔ داخلہ لینے سے پہلے متعلقہ ادارے کی حیثیت اور پی ایم ڈی سی کے تازہ قواعد کی تصدیق ضروری ہوگی۔
