پاور ڈویژن نے نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ نظام کی جانب منتقلی کے دوران زیر التوا رہنے والی 16 ہزار 654 درخواستوں میں سے 11 ہزار 695 کیس حل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی خصوصی ہدایات پر شروع کیے گئے تصدیقی اور جانچ عمل کے تحت ہوئی۔ مزید 4 ہزار 959 درخواستیں اب بھی ویری فکیشن اور ویلیڈیشن کے مرحلے میں ہیں۔ سرکاری بیان میں ’’حل‘‘ کی ہر صورت، مثلاً منظوری، اعتراض دور ہونے یا فائل اگلے مرحلے میں جانے، کی الگ تعداد نہیں دی گئی؛ اس لیے تمام 11 ہزار 695 کنکشنز کو لازماً نصب یا فعال سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
پاور ڈویژن کے مطابق پالیسی منتقلی کے وقت جمع شدہ درخواستوں کے بارے میں یہ یقینی بنانا مقصد تھا کہ قواعد کے تحت اہل صارفین کا حق برقرار رہے اور درخواستیں غیر ضروری تاخیر کے بغیر نمٹائی جائیں۔ نیٹ میٹرنگ میں صارف کی چھت یا مقام پر پیدا ہونے والی اضافی بجلی گرڈ کو فراہم کرکے درآمد اور برآمد شدہ یونٹس کے مقررہ ضابطے کے مطابق حساب کیا جاتا ہے، جبکہ نیٹ بلنگ میں خریدی اور گرڈ کو دی گئی بجلی کی قیمت یا حساب کا طریقہ الگ ہوسکتا ہے۔ موجودہ اعلان نے نئی پالیسی کے تمام نرخ یا ہر درخواست پر قابل اطلاق قانونی تاریخ دوبارہ بیان نہیں کی۔
پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی، پی آئی ٹی سی، نے متاثرہ صارفین سے براہ راست رابطہ شروع کردیا ہے۔ بیان کے مطابق درخواست گزاروں کو ایس ایم ایس، واٹس ایپ اور دوسرے ڈیجیٹل ذرائع سے ان کی تصدیق، کیس کی حالت اور آئندہ کارروائی کے بارے میں اطلاع دی جا رہی ہے۔ براہ راست رابطے کا مقصد درخواست گزار کو قابلِ اعتماد سرکاری معلومات دینا اور غیر رسمی ایجنٹس یا درمیانی افراد پر انحصار کم کرنا بتایا گیا ہے۔ صارف کو موصول ہونے والے کسی بھی پیغام کی اصلیت سرکاری نمبر، متعلقہ تقسیم کار کمپنی یا باضابطہ پورٹل سے جانچنا ضروری ہوگا، کیونکہ ڈیجیٹل رابطے کی آڑ میں جعل سازی کا امکان الگ خطرہ ہوسکتا ہے۔
پاور ڈویژن نے واضح کیا کہ درخواست تیز کرانے یا مزید کارروائی کے لیے کسی فرد، ایجنٹ یا ثالث کو کوئی فیس یا ادائیگی کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ ہدایت سرکاری درخواست کے ضابطہ جاتی یا منظور شدہ چارجز سے الگ ہے؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر رسمی شخص کو رشوت یا اضافی رقم نہ دی جائے۔ اگر کسی صارف سے سرکاری فیس کے علاوہ رقم مانگی جائے تو متعلقہ ڈسکو، پاور ڈویژن یا مجاز شکایتی نظام سے تصدیق اور رپورٹ کرنا ضروری ہوگا۔
16 ہزار 654 زیر التوا درخواستوں کا مجموعہ منتقلی کے مرحلے میں شناخت کیا گیا تھا۔ 11 ہزار 695 کیس حل ہونے کے بعد باقی تعداد حسابی طور پر 4 ہزار 959 بنتی ہے، جس کی سرکاری رپورٹ بھی تصدیق کرتی ہے۔ وزیر توانائی نے متعلقہ اداروں کو باقی درخواستوں کی جانچ تیز کرنے اور ہر صارف کو اس کے کیس کے بارے میں واضح و شفاف اطلاع دینے کی ہدایت کی۔ کسی مشترکہ آخری تاریخ، تقسیم کار کمپنی وار تفصیل یا ضلع وار تعداد کا اعلان رپورٹ میں نہیں کیا گیا۔
نیٹ میٹرنگ درخواست میں عام طور پر تکنیکی جانچ، میٹر اور گرڈ کی مطابقت، منظور شدہ لوڈ، دستاویزات اور تقسیم کار کمپنی کی کارروائی جیسے متعدد مراحل شامل ہوسکتے ہیں۔ سرکاری بیان نے یہ نہیں بتایا کہ زیر التوا کیسوں میں سب سے زیادہ رکاوٹ کس مرحلے پر تھی یا کتنی درخواستیں نامکمل دستاویزات، تکنیکی مسئلے یا پالیسی کی تاریخ کے تنازع سے متعلق تھیں۔ اس تفصیل کے بغیر 11 ہزار 695 کیسوں کے حل کی نوعیت کا مکمل عملی جائزہ ممکن نہیں۔
پاور ڈویژن نے اس اقدام کو جائز عوامی شکایات کے فوری ازالے اور درخواستوں میں غیر ضروری مداخلت ختم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ حقیقی نتائج کا پیمانہ صرف فائل بند ہونے کی تعداد نہیں بلکہ اہل درخواست گزار کو مقررہ پالیسی کے تحت واضح فیصلہ، قابلِ اپیل وجہ اور جہاں منظوری ہو وہاں بروقت میٹر و کنکشن ملنا ہوگا۔ صارفین کے لیے درخواست کی تاریخ اور جمع کردہ رسیدیں محفوظ رکھنا بھی اہم ہے کیونکہ پالیسی منتقلی میں اہلیت کا تعین اکثر متعلقہ تاریخ اور مکمل دستاویزات سے جڑا ہوتا ہے۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت پاور ڈویژن کا 11 ہزار 695 کیس حل کرنے کا اعلان، باقی 4 ہزار 959 درخواستوں کی جاری تصدیق، پی آئی ٹی سی کا براہ راست ڈیجیٹل رابطہ اور غیر رسمی ایجنٹ کو ادائیگی نہ کرنے کی ہدایت ہے۔ تمام باقی درخواستوں کے حتمی فیصلے اور منظور شدہ کیسوں کے عملی کنکشن کی مجموعی کیفیت بعد کی سرکاری رپورٹنگ سے واضح ہوگی۔




