کراچی: پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ نے مالی سال 2026 کے دوران 99 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع رپورٹ کیا ہے، جبکہ کمپنی کی وصولیاں 284 ارب روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ یہ اعدادوشمار کمپنی کے 75ویں سالانہ عمومی اجلاس میں پیش کیے گئے، جہاں شیئر ہولڈرز نے مالی سال کے حسابات، آڈیٹرز اور ڈائریکٹرز کی رپورٹس کی منظوری دی۔

اجلاس میں عام حصص پر 60 فیصد حتمی نقد منافع کی منظوری بھی دی گئی، جس کے بعد پورے سال کا مجموعی ڈیویڈنڈ 120 فیصد ہوگیا۔ کمپنی کے مطابق مالی سال کے دوران سات تلاش اور چار ترقیاتی کنویں کھودے گئے۔ گیس کی پیداوار پر پابندیوں کے باوجود اوسط پیداوار 649 ملین مکعب فٹ یومیہ رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً تین فیصد زیادہ بتائی گئی ہے۔

پی پی ایل نے سال کے دوران مجموعی طور پر 11 دریافتیں رپورٹ کیں، جن میں دو کمپنی کے زیرِانتظام اور نو شراکت داروں کے زیرِانتظام اثاثوں میں ہوئیں۔ کمپنی کے مطابق ان دریافتوں سے ثابت شدہ اور ممکنہ، یعنی 2P، ذخائر میں 242 ارب مکعب فٹ کا اضافہ ہوا۔ 2025 کی آف شور بولی میں کامیابی کے بعد پی پی ایل نے آٹھ سمندری بلاکس بھی حاصل کیے، جن میں دو میں آپریٹر اور چھ میں شراکت دار کی حیثیت شامل ہے۔

منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو خالد عبدالرحمان کے مطابق ترک پٹرولیم اوورسیز کمپنی کے ساتھ ایسٹرن آف شور انڈس بلاک سی کے فارم آؤٹ معاہدے نے پاکستان اور ترکی کے توانائی تعاون کو وسعت دی ہے۔ کمپنی ابوظبی کے آف شور بلاک 5 میں بھی پاکستان انٹرنیشنل آئل کے ذریعے سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

پی پی ایل نے تیل و گیس کے روایتی کاروبار کے ساتھ معدنیات میں توسیع کی حکمت عملی بھی بیان کی ہے۔ کمپنی نے پی پی ایل منرلز کے نام سے مخصوص کاروباری یونٹ قائم کیا ہے اور چاغی سمیت مختلف علاقوں میں معدنی مواقع کا جائزہ لے رہی ہے۔ رپورٹ شدہ مالی نتائج کمپنی کے جاری کردہ اعدادوشمار پر مبنی ہیں اور آئندہ کارکردگی توانائی قیمتوں، پیداوار، گردشی قرضے اور سکیورٹی سمیت متعدد عوامل سے متاثر ہوسکتی ہے۔